مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 135
۳۵ دن کی گفتگو۔وہ دعا۔شاہ صاحب کا یہ سوال ان تینوں چیزوں نے مل کر اپنا ایک عجیب کیمیاوی اثر دکھلایا۔ایک دن صبح کو میں اپنے مکان سے اترا تو حکیم فضل دین صاحب جو میرے بڑے مخلص اور محسن اور پیارے اور دل سے فرمانبردار دوست تھے رحمهم الله۔کچھ گھبرائے ہوئے میرے پاس آئے اور کہا کہ اذان کی دعا کس طرح ہے؟ وہ سوال میں بہت ہی ادب کیا کرتے تھے۔میں نے ان کو حسب معمول دعا سنادی۔انہوں نے کہا یہ کہاں لکھا ہے ؟ میں نے کہا آپ کیوں گھبراتے ہیں۔کبیری شرح منیہ اور لمعات شرح مشکوۃ شیخ عبد الحق محدث دہلوی میں ایسا ہی ہو گا۔میرے مکان کے نیچے بہت سے مسلمان بیمار بھی ہوا کرتے تھے۔لیکن اس دن خلاف معمول کوئی آدمی نہ تھا۔اتنے میں ایک شخص میرے پاس آیا۔جس کی حالت پر اب مجھ کو رحم آتا ہے اور بہت ہی رحم آتا ہے۔اس کا نام غلام محمد تھا۔قوم جلا ہا مگر بہت جو شیلا آدمی تھا۔رحم کی وجہ یہ ہے کہ اب اس کی اولاد میں ایک لڑکا میں نے دیکھا ہے جو بڑا جو شیلا شیعہ ہے اور رفع یدین کو تو وہ قریبا فرض ہی سمجھتا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کے عجائبات ہیں۔اس نے آکر کہا کہ حضرت پیر صاحب کی بی بی بہت سخت بیمار ہیں۔آپ وہاں چل کر ان کو دیکھ لیں۔میں ان پیر صاحب کی بڑی عزت کرتا تھا۔اس واسطے بلا تکلف اس کے ساتھ ہولیا۔وہ بڑی تیزی سے قدم اٹھاتا ہوا چلا۔میں نے بہت سی مخلوق راستہ میں دیکھی جو بے ساختہ پیر صاحب کے مکان کی طرف جا رہے تھے۔جب میں انکے دروازہ کے قریب پہنچا تو وہاں بڑا از دحام خلقت کا مجھے نظر آیا۔لیکن انکے زنان خانہ کی طرف نہ کوئی مرد جا تا ہوا دیکھانہ کوئی عورت۔میاں غلام محمد صاحب کو دیکھا تو وہ بھی وہاں غائب ہو گئے۔اس وقت معلوم ہوا کہ فریب سے مجھ کو کسی دوسری غرض کے لئے بلایا گیا ہے۔لیکن اس وقت وہاں سے کوئی واپس جانے کی صورت نظر نہ آئی تو ناچار میں بھی مردانہ کی طرف خود بخود چلا گیا۔وہاں پیر صاحب ایک بڑی چارپائی پر گاؤ تکیہ لگائے اور اپنے دونوں پاؤں کو چارپائی کے دونوں طرف رکھے ہوئے چت تھے۔اور ایک عالم جو اس شہر سے باہر کے تھے اور میں اس دم تک ان کے علم