مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 113
١٤٣ لیا کرتا ہے۔اس پر وہ بہت ہی تند ہو گئے۔میری عادت تھی کہ سبق کو پڑھ کر کسی بڑے کتب خانہ میں اس کتاب کی شرح دیکھا کرتا تھا اور کوئی لغت اٹک جاتا تھا تو لغت کی کتاب میں دیکھ لیتا تھا۔میں نے انکی تیزی کی طرف دھیان نہ کر کے سبق کو بہت تیزی سے پڑھنا شروع کر دیا۔صبح سے لیکر دو پر کے قریب تک پڑھتا ہی چلا گیا۔مگر وہ چپ ہی بیٹھے رہے۔جب ظہر کی اذان کی آواز آئی تو اتنا فرمایا کہ جماعت مشکل سے ملے گی۔سوائے اس کے انہوں نے اس وقت تک کوئی کلام نہیں کیا۔میں نے کتاب کو بند کر دیا۔عبد اللہ حلوائی ایک شخص کے مکان پر یہ سبق ہوا کرتا تھا اور دن کا کھانا میرا اور شیخ صاحب کا اسی کے یہاں ہو تا تھا۔میں وضو کر کے ظہر کی نماز کو چلا گیا۔ظہر کے بعد مولوی رحمت اللہ صاحب کے خلوت خانہ میں جا پہنچا۔انہوں نے فرمایا کہ آج تمہارا اپنے شیخ سے مباحثہ ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ تلمیذ اور استاد کا کوئی مباحثہ نہیں ہو سکتا۔میں طالب علم آدمی ہوں میرا مباحثہ ہی کیا۔ہمارے شیخ تو بڑے آدمی ہیں۔ہاں یوں طالب علم اساتذہ سے کچھ پوچھا ہی کرتے ہیں۔فرمانے لگے نہیں کوئی بڑا مسئلہ ہے۔میں نے کہا مسئلہ تو کوئی نہیں ایک جزوی بات تھی۔مولوی صاحب کی طرز سے مجھ کو معلوم ہو گیا کہ ان کو ساری خبر پہنچ گئی ہے۔مگر میں حیران تھا کہ سوائے میرے اور شیخ کے وہاں اور کوئی نہ تھا خبر کیسے پہنچی۔اتنے میں مولوی صاحب نے خود ہی فرمایا کہ تمہارے شیخ آئے تھے اور فرماتے تھے کہ بعض طالب علم بہت دلیر آجاتے ہیں اور ان کے مشکلات کا خمیازہ ہمیں اٹھانا پڑتا ہے اور پھر انہوں نے سارا واقعہ ہم کو سنایا۔میں نے جب سمجھ لیا کہ اب اخفا کا کوئی موقع نہیں تو ان سے عرض کیا کہ یہ ایک جزوی مسئلہ ہے۔اکیس کی صبح کو نہ بیٹھے ہیں کی صبح کو بیٹھ گئے۔اس طرح حدیثوں میں تطبیق ہو جاتی ہے۔مولوی رحمت اللہ صاحب نے فرمایا کہ بات اجماع کے خلاف ہو جاتی ہے۔میں نے کہا کہ اس چھوٹی سی بات پر بھلا اجماع کیا ہو گا۔تب انہوں نے فرمایا کہ سبق کل پڑھائیں گے۔اب تم ہمارے ساتھ ہمارے مکان پر چلو۔یہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔جب خلوت خانہ سے نکل کر مسجد کے صحن میں پہنچ گئے۔میں نے عرض کیا حضرت اس کوٹھے کی طرف لوگ سجدہ کیوں کرتے