مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 112
مؤطا مولوی رحمت اللہ صاحب سے پڑھنا شروع کی۔ان تینوں بزرگوں کی صحبت بڑی ہی دلربا تھی۔سید حسین صاحب کی صحبت میں مدت دراز تک حاضری کا اتفاق رہا۔مگر میں نے سوائے الفاظ حدیث کے قطعاً کوئی لفظ ان کی زبان سے نہیں سنا۔جب میں نے مولوی رحمت اللہ صاحب سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم میں برس سے دیکھتے ہیں کہ یہ کسی سے تعلق نہیں رکھتے اور ہم کو یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ کھاتے کہاں سے ہیں۔سید حسین صاحب نہایت ہی کم سخن تھے اور باتیں کرنے میں اس قدر تامل تھا کہ بعض اوقات ضروری کلام بھی نہیں فرماتے تھے۔حرم میں میں ان سے مسلم پڑھتا تھا۔سائل بھی وہاں آجاتے تھے۔وہ تھوڑی دیر تک ان سائلوں کو دیکھتے رہتے تھے۔پھر کسی کو کہتے تھے کہ تم یا باسط پڑھو۔کسی کو کہتے۔یاغنی پڑھو۔کسی کو یا حمید کسی کو یا مجید وغیرہ کا حکم دیتے۔یہ انکی معمولی روزانہ باتیں تھیں۔لیکن میں ان سے یہ نہ پوچھ سکا کہ یہ مختلف اسماء مختلف اشخاص کو آپ کیوں بتاتے ہیں۔انکی قلت کلام نے پوچھنے کی اجازت نہیں دی۔شیخ محمد صاحب کو صحاح ستہ خوب آتی تھیں۔سادہ سادہ پڑھاتے تھے۔مباحثات کی طرف سے انکی طبیعت بالکل متنفر تھی۔ایک دفعہ میں ابوداؤد پڑھتا تھا۔اعتکاف کے مسئلہ میں حدیث سے معلوم ہو تا تھا کہ صبح کی نماز پڑھ کر انسان معتکف میں بیٹھے۔مجھے اشارہ کیا کہ تم حاشیہ کو پڑھو یہ حدیث بہت مشکل ہے۔میں نے عرض کیا کہ حدیث تو بہت آسان ہے۔حکماً میں دیکھ لیتا ہوں۔انہوں نے کہا بہت مشکل ہے۔میں نے سرسری طور پر اس کا حاشیہ دیکھا۔اس میں لکھا ہوا تھا کہ یہ حدیث بہت مشکل ہے۔کیونکہ اکیس تاریخ کی صبح کو بیٹھیں تو ممکن ہے اکیسویں رات لیلۃ القدر ہو۔اگر اس کے لحاظ سے عصر کو بیٹھیں تو رسول اللہ صلی علیہ و سلم سے ثابت نہیں۔میں نے دیکھ کر کہا کہ ذرا بھی مشکل نہیں۔یہ محاشی کی غلطی ہے۔میں ایسی راہ عرض کرتا ہوں جس میں ذرا بھی اشکال نہیں یعنی میں کی صبح کو بیٹھے۔انہوں نے کہا یہ تو اجماع کے خلاف ہے۔میں نے کہا۔امام احمد رحمہ اللہ علیہ کے اقوال آپ پڑھیں۔یہ اجماع محض دعاوی ہیں۔ہر ایک شخص اپنے اپنے مذہب کی کثرت کو دیکھ کر لفظ اجتماع بول