مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 97
طرف توجہ کم دلائی جاتی ہے اور طالب علمی میں پاک صحبتیں ان لوگوں کو بہت ہی کم نصیب ہوتی ہیں اور بد قسمتی سے اخلاق کے متعلق عملی کتاب کوئی نہیں۔گونہ چھاؤنی سے چلا۔میرے ساتھ محمود نامی ایک افغان نهایت خوبصورت نوجوان تھا۔ہم نے گونہ سے تھوڑا ہی فاصلہ طے کیا ہو گا کہ ایک زمیندار نے ہم سے کہا کہ اس سڑک پر مری ہے (مری وہ ہیضہ کو کہتا تھا) دوسری سڑک پر چلو۔لیکن محمود ایک بڑا متوکل آدمی تھا۔تو کل کے غلط معنی جس میں آجکل علی العموم مسلمان گرفتار ہو کر کاہل اور ست ہو گئے ہیں ، اس میں وہ بھی گرفتار تھا۔اس کے کہنے پر محمود نے پروانہ کی۔میں نے بھی روکا مگر اس نے کہا۔خبر واحد ہے کیا اعتبار - میں نے محمود سے کہا کہ میں بیزار ہوں مگر مجبور ہوں۔آخر ہم چلے۔چند منٹ کے بعد محمود خود ہیضہ میں مبتلا ہو گیا۔دور سے ایک گاؤں نظر آتا تھا۔ہم نے بہت کوشش کی کہ جلد وہاں پہنچیں مگر ایک ہی اجابت نے محمود کو مضمحل کر دیا۔آخر گاؤں کے پاس پہنچے۔گاؤں والوں نے بالکل روک دیا۔اور ہم نے ایک املی کے درخت کے نیچے ڈیرا کر دیا۔محمود کی حالت و تا فوقا بگڑتی گئی اور دو تین روز کے بعد اس نے انتقال کیا۔اس کے دفن کرنے میں اور اتنے روز کھانا نہ ملنے میں مجھے بہت دقت ہوئی۔مرنے کے بعد میں نے گاؤں کے نمبردار کی دفن کے لئے بہت کچھ منت کی۔مگر وہ ایک زر خطیر لے کر راضی ہوا اور پھر بھی یہ کہا کہ میت کو ہم میں سے کوئی نہ اٹھائے گا۔ہاں ہم ایک گہرا گڑھا کھود دیتے ہیں۔میں نے محمود کو خود اٹھا کر گڑھے میں ڈالا اور نماز جنازہ تب یاد آئی۔جب مٹی برابر کر چکے۔ایک مسلمان جو صرف ایک ہی مسلمان گاؤں میں تھا اور اس کا نام گرجن اور ایک اس کا بھائی جس کا نام ارجن تھا۔اور جس کو میں نے ہر چند اپنی امداد کے لئے کہا تھا اور وہ انکار کر چکا تھا۔اس کا اکلوتا بیٹا ہیضہ میں گرفتار ہو گیا۔کچھ تو وہ مشرکانہ خیال کے باعث اور کچھ اس لئے کہ مجھے کو محمود کا علاج کرتے بھی دیکھا تھا۔میرے پاس دوڑتا اور روتا ہوا آیا اور کہا۔ہمارے گھر چلو اور بھوجن بھی کھاؤ۔میں چلا گیا اور اس کے لڑکے کو یہ دوائی دی۔گل ناشگفتہ مشر ( آکھ تولہ ، سہاگہ بریاں ۵ ماشہ دار فلفل ۵ ماشه - لونگ ۵ ماشه - زنجبیل ۵