مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 98
۹۸ ماشہ - گولی بنائی اور نیم کی انتر چھال کے پانی کے ساتھ دی اور لہسن کوٹ کر اس کے ناخنوں پر باندھ دیا۔لڑکا سنبھل گیا۔اس کی ماں نے تازہ چو کا بنا کر مجھ کو اس کے اندر بٹھا کر کھانا کھلایا۔شہر میں مرض کی بڑی شدت ہو گئی اور ہم وہاں طبیب ہو گئے۔نمبردار نے ہمارا روپیہ واپس کر دیا اور مجھے کہا کہ آپ کو میں مع آپ کے اسباب کے بھوپال پہنچا دوں گا۔اس نے اپنے عہد کو بڑی وفاداری سے نباہا۔اسی راستہ میں میں نے حضرت شاہ وجیہ الدین کے (جو ہمارے شیخ المشائخ شاہ ولی اللہ صاحب کے بڑے تھے) گنج شہیداں کو دیکھنے اور عبرت حاصل کرنے میں بہت فائدہ اٹھایا۔وہاں شاہ صاحب کو کنگن ولی کہتے تھے۔میں بھوپال پہنچا تو میرے پاس کچھ روپیہ تھا۔جس کو میں نے اپنے اسباب کے ساتھ بیرونی سرائے میں رکھا اور ایک روپیہ اس میں سے نکال لیا۔کیونکہ بلا کسی خاص اجازت کے شہر کے اندر کسی اجنبی کو جانے نہیں دیتے تھے اس لئے میں نے بیرونی سرائے میں اسباب رکھ کر کپڑے بدلے اور وہ ایک روپیہ رومال میں باندھ کر شہر میں چلا گیا۔شہر میں تھوڑی دور چل کر ایک باورچی کی دوکان آئی۔وہاں جاکر میں نے کھانا کھایا۔اس باورچی نے آٹھ آنے مجھ سے مانگے۔میں نے اس کو روپیہ دیا۔اس نے مجھ کو اٹھنی واپس دی۔وہ اٹھنی لے کر میں چلا اور قلعہ دار سے اجازت حاصل کی۔تھوڑی دیر کے بعد جو دیکھتا ہوں تو وہ اٹھنی کہیں گر گئی تھی۔جب واپس سرائے میں پہنچا تو میرا اسباب تو بالکل محفوظ تھا مگر روپے ندارد۔دوسرے دن میں اسباب کو لے کر جب دروازہ شہر میں داخل ہوا تو یہ فکر تھی کہ کتابیں وغیرہ کہاں رکھوں۔جب اسی باورچی کی دکان کے سامنے سے گزرا تو اس نے کہا کہ کھانا کھا لو۔میں نے کتابیں اور اسباب اس کی دکان پر رکھ کر بلا تکلف خوب کھانا کھالیا۔میرے دل میں تھا۔پیسے تو پاس ہیں نہیں مگر آخر تمام اسباب آٹھ آنہ کا بھی نہ ہو گا؟ میں اسباب وہیں رکھ کر چلا آیا۔بھوپال میں باجی کی مسجد بڑی عمدہ ہوادار جگہ اور تالاب کے کنارے تھی۔مجھ کو پسند آئی۔میں زیادہ حصہ اسی میں رہتا تھا۔اب میں اس باورچی کی دکان کی طرف بھی نہیں جاسکتا تھا۔مجھ کو بہت وقتوں تک کھانے