مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 96
94 چھاؤنی میں تھی جا کر آرام کیا۔یہ مسجد کچھ دیر ان ہی سی معلوم ہوئی۔رات بہت چلی گئی تو ایک شخص نماز پڑھنے آیا۔میں نے اس سے کہا کہ تم بہت دیر کر کے نماز پڑھنے آئے ہو۔اس نے کہا۔ہم کاروباری لوگ ہیں۔یہاں ہم بڑے اتفاق سے رہتے تھے۔یہ مسجد بھی بڑی آباد تھی۔لیکن یہاں رفع یدین اور آمین بالجھر پر آپس میں ایسا جھگڑا ہوا کہ قریب تھا کہ یہ مسجد گنج شہیداں ہو جائے۔آخر ایک دنیا دار نے سب کو کہدیا کہ نمازیں اپنے اپنے گھر میں پڑھو اور اپنے کاروبار کرو۔کیوں مولویوں کے کہنے سے تباہ ہوتے ہو۔چنانچہ سب نے مسجد کی نماز چھوڑ دی ہے اور اپنے اپنے گھروں میں لوگ پڑھتے ہیں یا نہیں پڑھتے۔مگر میرا دل مسجد کے سوا نہیں لگتا۔اس لئے میں ایسے وقت مسجد میں آتا ہوں جبکہ کوئی اس محلہ کا آدمی مجھ کو مسجد میں آتے ہوئے نہ دیکھ سکے۔میں نے کہا ممکن ہو تو تم کل ان لوگوں کو بلاؤ۔ہم ان کو کچھ سنانا چاہتے ہیں۔وہ نماز پڑھ کر چلا گیا۔کچھ دیر کے بعد کھچڑی لایا جو ہم دونوں رفیقوں کے لئے کافی سے زیادہ تھی۔دوسرے دن بہت سے آدمیوں کو اکٹھا کر کے لایا۔میں نے ان کو باہمی عداوت کے متعلق بہت سمجھایا اور بتایا کہ دیکھو خد اتعالیٰ واحد ہے۔رسول واحد ہے۔کتاب واحد ہے۔قبلہ توجہ واحد ہے۔فرائض میں بھی قریباً با ہمی اشتراک ہے۔چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے اتنے بڑے عظیم الشان کام جماعت کو چھوڑ دینا لوگوں کی غلطی ہے۔میری تقریر کا بہت اثر ہوا۔بہت سے لوگ میرے ہمدرد ہو گئے۔ان میں سے ایک شخص ڈاکٹر حبیب اللہ خان نے میرے ساتھ میرے پاؤں کے زخموں کے متعلق بڑی بڑی ہمدردیاں کیں۔آخر وہ سانبھر جھیل کو تبدیل ہو گئے تھے۔میرے ساتھ اپنے آخری دم تک اپنی محبت کو انہوں نے بہت نباہا۔میں قادیان میں تھا۔جب ان کا انتقال ہوا ہے۔وہ ہمیشہ بڑی بڑی محبتوں کا اظہار میرے ساتھ کرتے رہے۔مجھے ان مسائل کے متعلق بڑا ہی تعجب آیا کرتا ہے کہ یہ کیا جھگڑے ہیں۔اگر ہماری قوم کے ملاح ان چھوٹے چھوٹے مسئلوں کے باعث عوام کو جوش نہ دلا ئیں تو میرے نزدیک خود ان علماء اور گدی نشینوں کو بھی کوئی ضرر نہ پہنچے۔مگر طالب علمی میں ان کو پاک باتوں کی