مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 95 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 95

۹۵ گئے تھے اور مولوی نذیر حسین مجاہدین کو روپیہ پہنچانے کے مقدمہ میں ماخوذ تھے۔ان دونوں سے ایک حرف پڑھنا بھی نصیب نہ ہوا (اگر چہ پھر آخر میں ایک وقت میں نے حافظ احمد علی صاحب سہارنپوری سے بہت کچھ استفادہ کیا۔مگر وہ طالب علمی کا وقت نہ تھا) اور میں بھوپال پہنچ گیا۔بھوپال میں پہلی مرتبہ بھوپال جاتے ہوئے دو باتیں رستہ میں پیش آئیں۔ایک یہ کہ جب میں گوالیار پہنچا تو میری ایک ایسے بزرگ سے ملاقات ہوئی جو حضرت سید احمد صاحب بریلوی کے مخلصوں میں سے تھے۔مجھ کو کچھ ان کی صحبت میں ایسی خوشی حاصل ہوئی کہ میں وہیں رہ پڑا۔مجھ سے باتیں کرتے کرتے انہوں نے یہ دو شعر پڑھے۔نہ کر عوض مرے عصیان و جرم بے حد کا کہ تیری ذات غفور الرحیم کہتے ہیں کہیں نہ کہدے عدد دیکھ کر مجھے غمگین یہ اس کا بندہ ہے جس کو کریم کہتے ہیں ان شعروں کا اثر جو میرے دل پر ہوا ہے وہ یہ ہے کہ آج اس بات کو شاید پچاس برس کے قریب زمانہ گزرتا ہے۔لیکن وہ لذت اب تک بھی فراموش نہیں ہوئی۔اگر چہ ادعیہ مسنونہ کی برابری یہ دعا نہیں کر سکتی مگر معلوم نہیں کہ کیسے دل سے نکلی تھی۔جس میں عجیب قسم کا اثر ہے۔وہاں سے چل کر میں گونہ نام ایک چھاؤنی میں پہنچا۔میرے پاؤں بہت زخمی ہو گئے تھے اور چلنے کی تاب ان میں بالکل باقی نہ تھی۔کیونکہ میں بہت ہی تھک گیا تھا۔ایک مسجد میں جو