مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 94 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 94

۹۴ وقت فیصلہ ہو گیا۔مگر انہوں نے مقدمہ سن کر صاف لفظوں میں مجھ سے کہا کہ تم بچے ہو اور یہ ب غلطی پر ہیں۔میں نے کہا بس فیصلہ ہو گیا۔اب جاتے ہیں۔میں جب اٹھ کر چلنے لگا تو انہوں نے مجھ کو پھر بٹھایا اور خود اٹھ کر ایک قریب کی کوٹھڑی میں گئے وہاں سے ایک قلمی کتاب لائے۔میں نے اس کو دیکھا تو عملیات کی کتاب تھی۔مجھ سے فرمانے لگے کہ میری ساری عمر کا اندوختہ یہی ہے اور میں یہ کتاب تم کو دیتا ہوں۔میں نے کہا میں تو طالب علم ہوں۔ابھی پڑھتا ہوں مجھ کو اس کی ضرورت نہیں۔یہ سن کر وہ چشم پر آب ہو گئے اور کہنے لگے کہ ہم تم کو دیتے ہیں اور تم لیتے نہیں۔یہ لوگ مانگتے ہیں اور ہم ان کو دیتے نہیں۔پھر بھی جب میں اٹھنے لگا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم ایک بات عملیات کے متعلق کہتے ہیں۔اس کو سن لو۔جب کوئی شخص تمہارے پاس کسی غرض کے لئے آئے تو تم کو چاہیے کہ تم جناب الہی کی طرف جھک جاؤ اور یوں التجا کرو کہ الہی میں نے اس کو نہیں بلایا۔تو نے خود بھیجا ہے۔جس کام کے لئے آیا ہے اگر وہ کام تجھ کو کرنا منظور نہیں تو جس گناہ کے سبب میرے لئے تو نے یہ سامان ذلت بھیجا۔میں اس گناہ سے توبہ کرتا ہوں۔پھر بھی دوبارہ تمہاری اس دعا مانگنے کے ندوہ شخص اصرار کرے تو دوبارہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعامانگ کر اس کو کچھ لکھ دیا کرو۔مجھ کو امیر شاہ صاحب کے بتائے ہوئے اس نکتہ نے آج تک بڑا فائدہ دیا۔مگر ان طلباء نے مطلق توجہ نہیں کی اور ان کو کچھ بھی خبر نہ ہوئی کہ انہوں نے کیا بتا دیا۔جب وہاں سے باہر نکلے تو طالب علموں نے میری نسبت کہا کہ اس کو حُب کا عمل آتا ہے اس نے کھڑے ہو کر ان پر بھی حب کا عمل ڈالا اور وہ اس کے قابو میں آگئے اور اسی واسطے یہ ہمیشہ بڑے بڑے امیروں اور معززوں میں رہتا ہے اور سب اس کی خاطر کرتے ہیں۔یہاں میں دو برس حضرت حکیم صاحب کے حضور حاضر رہا اور بمشکل قانون کا عملی حصہ ختم کیا۔بعد حصول سند و اجازت رخصت مانگی کہ اب میں عربی کی تکمیل اور حدیث پڑھنے کے لئے جاتا ہوں۔آپ نے مجھے میرٹھ اور دہلی جانے کا مشورہ دیا اور نہایت محبت سے فرمایا کہ ہم معقول خرچ ان دونوں شہروں میں تمہیں بھیجا کریں گے۔مگر جب میں میرٹھ پہنچا تو حافظ احمد علی صاحب کلکتہ کو چلے