مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 75 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 75

" ایک بمبئی سے تاجر آیا جس نے تقویۃ الایمان اور مشارق الانوار کی سپارش کی کہ میں ان دونوں کتابوں کو پڑھوں۔اردو زبان مجھے نہایت پسند تھی اور میری دل لگی کا موجب۔اس لئے میں نے ان دونوں کو خوب پڑھا اور تھوڑے دنوں کے بعد لاہور آگیا۔عربی تو پڑھتا ہی تھا۔حکیم الہ دین صاحب لاہوری مقیم گئی بازار میرے استاد مقرر ہوئے اور وہ مجھے مو جز پڑھاتے تھے۔عربی عبارت نہایت صحیح پڑھنا اور تلفظ میں بڑی احتیاط کرنا یہ ان کو ہمیشہ مد نظر تھا۔چند روز کے بعد مجھ کو بھیرہ آنا پڑا اور اس دلچسپ علم کے درس سے محروم ہوا۔یہاں سے ایک خاص تقریب کے باعث مجھے راولپنڈی جانا پڑا اور نارمل سکول کی تعلیم میرے ذمہ لگائی گئی۔غالبا یہ ۶۵۸ کا ذکر ہے۔میری عمر اس وقت اٹھارہ برس کے قریب قریب ہو چکی تھی۔منشی محمد قاسم صاحب کی تعلیم کی قدر اس وقت معلوم ہوئی کیونکہ نارمل سکول میں سہ نثر ظہوری“ اور ”ابو الفضل " کے پڑھنے میں میں مدرسہ میں طلباء کا سرتاج تھا۔مولوی سکندر علی نام ہیڈ ماسٹر اتنے خوش ہوئے کہ میری غیر حاضری کو بھی معاف کر دیا۔اس غیر حاضری میں مجھے یہ فائدہ ہوا کہ حساب اور جغرافیہ پڑھنے کے لئے میں نے ایک آدمی کو نوکر رکھ لیا اور بجائے اس ذہاب و ایاب کے جو مدرسہ کے جانے میں ہو تا تھا۔میرا وقت اقلیدس اور حساب اور جغرافیہ کے لئے مفت بچ جاتا تھا۔کیونکہ نارمل سکول ہمارے مکان سے دو تین میل پر تھا۔تقسیم کسور مرکب کے لئے میں نے شیخ غلام نبی صاحب نام ہیڈ ماسٹرلون میانی کو ٹھیکہ دار بنایا اور وہی میں نے سب سے پہلے سیکھنی چاہی۔اس کا سیکھنا تھا کہ سارے مبادی الحساب ہر چہار حصص کے پڑھانے میں آخر کو ہم شیخ صاحب کے بھی استاد ہو گئے۔اقلیدس کے لئے منشی نہال چند ساکن ضلع شاہ پور کو منتخب کیا۔انہوں نے مجھے نہایت محبت سے پہلے مقالہ کی چند شکلیں پڑھائیں۔پھر مجھ میں محض خدا تعالی کے فضل سے سارے تعلیمی حصہ کو خود بخود پڑھنے کا فہم پیدا ہو گیا اور میں ایک امتحان میں جس کو تحصیلی امتحان کہتے تھے ایسا کامیاب ہوا کہ پنڈ دادن خان کا ہیڈ ماسٹر ہو گیا۔منشی محمد قاسم صاحب کی تعلیم اس وقت میرے لئے بڑی مفید ہوئی کیونکہ پنڈ دادن خان میں فارسی مدرس میری