مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 52 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 52

۵۲ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلَه مَا تَوَلَّى وَنَصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا۔مجھے زیادہ کون بد قسمت ہو سکتا ہے۔پس میرا دلی یقین یہ ہے کہ وہ محبوب الہی حسب تزکیہ شہداء اللہ واقعی محبوب الہی تھے۔یہی میرا دلی اعتقاد ہے۔عام لوگوں کی اجنبیت انشاء اللہ تعالیٰ میرے نزدیک جوئے نمی ارزد کارنگ رکھتی ہے۔۔ه کاش آنا نکه عیب من گیرند روئے آں داستاں بریده نادری اب دوسرے ارشاد اور اس کی اہمیت پر گذارش کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔انا لتَنْصُرُ رَسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا اور فرماتا ہے وَلِلَّهِ العِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُومِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ پس مولانا۔اگر ہم فی الواقع جناب الہی کی نظر میں مومن ہیں تو ہم یقینا یقینا معزز و منصور ہیں۔ہمیں کفار کے جلسہ کا قطعا جوش و رنج نہیں۔اور نہ ہم ان کے نظاروں کو اہم یقین کر سکتے ہیں۔جناب کو معلوم ہو گا حضرت فرید الحق والدین جب قطب الحق کے جانشین ہوئے تو ہفتہ کے اندراندر قرب دہلی سے دوری اختیار فرمائی تو کیا ان کے لئے اجودھن کا جنگل مضر ہوا۔لا و الله ہے۔اپنی کتاب رسالہ نور الدین میں آپ نے اپنا مذ ہب بیان فرمایا ہے جو یہاں نقل کیا جاتا ا۔ہم اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں کہ ہے اور وہ موصوف صفات کاملہ اور ہر ایک نقص سے مزه لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولد ہے۔اس کے ارادہ اور اسی کی خلق سے یہ تمام مخلوق ہے۔وہ وراء الوراء محيط کانات لا اله إلا الله خَالِقَ كُلِّ شَيْء وَ هُوَ بِكُلِّ شَيْي محيط مُّحِيطٌ وَهُوَ الْاَوَّلُ وَإِنَّ إلى رَبِّكَ الْمُنتَهى وَهُوَ الأجر ہے۔جبکہ ہمارا یہ عقیدہ اور یہ ایمان ہے تو سوفسطائی۔دہریہ - مسیحی۔اور وہ یونانی منطقی اور سناتن جو اللہ تعالیٰ کو علت۔