مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 53
۵۳ لا بشرط - بشرط لا نرگن مانتا ہے اور وجودی۔نیچری - آریہ سماجی جس کے نزدیک اللہ خالق ارواح، خالق مادہ خالق زمانہ خالق فضا اور ان کے گن - کرم۔سبھاؤ - خواص - افعال۔عادت کا خالق نہیں۔ہماری کتاب کو کیوں پسند کرے گا۔۔ہم اللہ تعالٰی کو مانتے ہیں کہ وہ متکلم ہے۔اپنے پیاروں سے کلام کرتا ہے۔ارادہ و مشیت سے اس کے کام ہوتے ہیں۔وہ کلام کرتا رہا کرتا رہتا ہے اور کلام کرے گا۔اس کے کلام و تکلیم پر کبھی مہر نہیں لگی۔پس جو لوگ اس کو گم صم مانتے ہیں مثلاً بر ہمو اور نیچری اور جو لوگ کہتے ہیں دو ارب برس سے وہ خاموش ہے اور صرف چار ہی آدمیوں سے سرشٹی کے ابتدا میں بولا تھا یا جو کہتے ہیں کہ مسیح یا نبی کریم خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و مسلم تک بات کر کے اب خاموش ہے اور جن کا وہم ہے کہ بیج کی طرح بے اختیار ہے وہ کیوں پسند کرنے لگے۔ہم مانتے ہیں کہ ملائکہ ہیں۔ان پر اور اللہ تعالیٰ کی تمام کتابوں، رسولوں اور نبیوں پر ہمارا ایمان ہے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خاتم النبیین رسول رب العالمین مانتے ہیں۔پھر ان باتوں کے مخالف کیوں پسند کرنے لگے۔۔ہمارے نزدیک ہر ایک شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار اور جواب دہ ہے۔اور ہم عفو مغفرت شفاعت بالاذن کے معتقد ہیں۔پس ہماری باتوں سے کفارہ کا قائل کب راضی ہوا۔اور جو اللہ تعالیٰ کو (کھما) عفو والا نہ مانے۔وہ کیونکر راضی ہو۔ہم صحابہ کرام ، تابعین عظام رِضْوَانَ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ کو ابو بکر و عمر سے لے کر معاویہ و مغیرہ تک اویس قرنی اور حسن بصری سے لے کر ابراہیم نھی و نافع عکرمہ تک، اور اہل بیت میں خدیجہ وعائشہ سے لے کر علی المرتضیٰ اور تمام ائمہ اہل بیت علیهم السلام ان سب کو بجھد اللہ اپنا محبوب اور دل سے پیارا اعتقاد کرتے ہیں قَالَ الْإِمَامُ إِمَا مَنَا - عَلَيْهِ السَّلَامُ۔