مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 51
۵۱ زمانہ نبوت کا زمانہ نہیں۔اس پر دریافت طلب امر ہے کہ آپ کو اس بارے میں وحی نبوت ہوئی ہے کہ آپ کا زمانہ نبوت کا زمانہ نہیں یا آپ کی دہریت کا فتویٰ ہے۔نور الدین فروری ۱۹۰۹ء میں حسن نظامی دہلوی نے آپ کی خدمت میں ایک خط لکھا اس کے جواب میں ان کو جو خط آپ نے لکھا۔درج ذیل ہے۔مکرم معظم جناب مولانا - مکرمت نامہ پہنچا۔اس پر عرض ہے کہ کتاب اللہ کے بعد صحیح بخاری کو میں اور ہماری جماعت اصح الکتب یقین کرتے ہیں۔اس میں لکھا ہے کہ ایک بار سرور عالم ، مخربنی آدم خاتم المرسلین، سید الاولین والآخرین، صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور حضرات صحابہ کرام شرف اندوز تھے اور ایک جنازہ گزرا۔اور اس مطہرو مزکی جماعت نے اس کی تعریف کی۔عربی عبارت میں ہے۔اُثْنُوا عَلَيْهِ خَيْرًا فَقَالَ وَجَبَتْ۔پھر ایک اور جنازہ گذرا تو اس کی خدمت ہوئی پھر ارشاد ہوا۔وَجَبَتْ۔وَجَبَتْ کے معنی ہیں کہ اس کے لئے واجب ہو چکی۔حضرات صحابہ کرام نے عرض کیا۔مَا وَجَبَتْ يَا رَسُولَ اللهِ ا کیا واجب ہوا۔فرمایا۔الَّذِي اثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا فَوَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَأَمَّا الَّذِي اثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا فَوَجَبَتْ لَهُ النَّارُ۔أَنْتُمْ شُهَدَاءُ فِي الْأَرْضِ جس کی تم نے تعریف کی اس کے لئے جنت واجب ہوئی اور جس کی تم نے مذمت کی اس کے لئے دوزخ واجب ہوئی۔اب جو میں قرآن کریم کو پڑھتا ہوں تو اس میں ارشاد ہے۔وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ حقیقت ہر زمانہ کے اخیار میں طاری و ساری ہے۔اور ہمیشہ اس کے مطابق ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔اور اس معیار پر میں نے حضرت نظام الحق والدین سلطان الدنيا و العقبیٰ کو دیکھا تو سات سو برس کے قریب قریب ہوتا ہے کہ ہزاروں ہزار اخیار آپ کی مدح میں رطب اللسان ہیں۔اگر یہ مشت خاک ان ابرار و اخیار کے ساتھ ہم آواز نہ ہو تو حسب الارشاد وَيَتَّبِعْ غَيْرَ