مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 229 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 229

۲۲۹ کو جگایا کہ بیٹا اب تم اپنے گھر جاؤ۔میں نے کہا کہ میں ہیں سو رہوں گا کیونکہ آدھی رات تو گزر ہی گئی ہے۔اس نے کہا کہ نہیں تم اپنے گھر ہی جا کر سوؤ۔میں نے کہا کہ اچھا میں تنہانہ جاؤں گا۔اس کو (دودھ شریک بھائی کو میرے ساتھ بھیجو کہ مجھ کو مکان تک پہنچا آئے۔وہ میرے ساتھ ہو لیا۔میں نے دانستہ اس کو پیچھے رکھا اور خود آگے آگے چلا۔لیکن اس نے کچھ نہیں کیا۔پھر جب میں اپنے گھر کے دروازہ پر پہنچاتو میں دروازہ کی سیڑھیوں پر اوپر کھڑے ہو کر اس کو نیچے کی سیڑھی پر کھڑا کر کے باتیں کرنے لگا کہ اب یہ اطمینان سے چھری بھونک دیگا لیکن وہ تو اس قدر گھبرایا کہ اس نے مجھ سے کہا کہ اب اجازت دیجئے۔میں نے کہا اچھا۔(۱۰ر جون ۱۹۰۹ء) جب میں پنڈ دادنخان میں تھا تو وہاں سکندر کی بیوی کابت نکلا تھا۔اس کو ایک انگریز خرید کرلے گیا تھا۔(۱۴ جون ۱۹۰۹ء) ہمارے شہر میں ایک عالم شخص مسجد میں رہتے تھے۔محمد اشرف ان کا نام تھا۔مسجد کے اندر ہی کے حصہ میں ان کا سب سامان- آٹا۔صندوق - گھڑے۔کتابیں وغیرہ سب کچھ رہتا تھا۔وہ جب کہیں جاتے تو سار ا سامان ساتھ ہوتا۔بازار میں جب جاتے تو آٹے کے گھڑے اور کتابیں غرض کہ تمام سامان سب شاگر داٹھائے ہوئے ہوتے۔عجیب قسم کی ان کی سواری نکلتی تھی۔وہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر بازار میں کوئی فقیر آنے کا سوال کرے تو کیا گھر سے آٹا لینے جائیں۔اگر کوئی فتویٰ لکھوائے تو قلم دوات کے تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔وہیں قلم دوات لیا اور فتویٰ لکھ دیا۔ایک مرتبہ ایک مولوی ان کے پاس آیا اور کہا کہ مولوی صاحب آپ راگ کو برا جانتے ہیں اور میں راگ کو جائز بلکہ ضروری ثابت کرتا ہوں۔راگ کے ذریعہ سے خداشناسی میسر ہوتی ہے۔وہ اس وقت شہر سے باہر کسی جگہ گئے ہوئے