مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 228
۲۲۸ سرور حاصل ہوا۔(۷ار مارچ ۱۹۱۲ء قبل نماز ظهر) بھیرہ کے قریب ایک گاؤں میں میاں حید ر نام ایک بھنگ گھونٹنے اور پینے والے فقیر رہتے تھے۔میں نے ان سے پوچھا کہ امام مہدی کی کیا شناخت ہوگی ؟ انہوں نے کہا کہ امام صاحب جب آئیں گے تو ان کی سواری کے آگے سوالاکھ فقیر مطہریں ہاتھ میں لئے ہوئے دھمال ڈالتے ہوئے چلیں گے۔میں نے کہا کہ یہ مولوی لوگ تو نہ مانیں گے۔کہا کہ پھر تو کچھ جھگڑا ہی معلوم ہوتا ہے۔(یکم جون ۱۹۰۹ء) ہمارے شہر میں ایک لڑکا ہے۔طوائف قوم کا بڑا متین معلوم ہوتا ہے اور بڑی شرم کے ساتھ بات کرتا ہے۔لیکن اس میں حیا کا مادہ نہیں۔ایک شخص نے اس سے پوچھا کہ آپ کے باپ کا نام کیا ہے ؟ اس نے جیب سے ایک روپیہ نکال کر دکھا دیا کہ یہ نام ہے۔(یکم جون ۱۹۰۹ء) ایک مرتبہ میری مخالفت بھیرہ میں اس قدر بڑھی کہ لوگ میرے قتل کے منصوبے کیا کرتے تھے۔یہاں تک زور ہوا کہ ایک شخص میرا دودھ شریک بھائی تھا۔اس نے میرے دشمنوں سے کہا کہ میں نور الدین کے چھری مار کر اس کا کام تمام کردوں گا۔میں نے جب سنا تو میں ایک دن رات کو نماز عشاء کے بعد اس کے گھر چلا گیا۔اس کی ماں کا چونکہ میں نے دودھ پیا تھا اس لئے وہ مجھ سے پر وہ تو کرتی ہی نہ تھی۔میں وہاں جا کر لیٹ گیا اور خراٹوں تک بھی نوبت پہنچادی۔سب نے سمجھا کہ یہ سو گیا ہے۔میرے دل میں یہ خیال اور شوق کہ دیکھوں یہ کس طرح چھری مارے گا یہاں تک کہ جب آدھی رات کا وقت ہوا تو اس کی ماں نے مجھے