مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 227
۲۲۷ (۱۸) مئی ۱۹۰۹ ء بعد نماز ظهر) ایک امیر شخص نے جو راجہ کہلاتا تھا۔میری ضیافت کی اور بڑی ہی خاطر تواضع سے پیش آیا۔باتوں باتوں میں اس کو معلوم ہوا کہ یہ شخص بھیرہ کا رہنے والا ہے۔بھیرہ کا نام سنتے ہی اس کا چہرہ متغیر ہو گیا۔یہ ۱۸۶۰ء کے قریب کی بات ہے۔اس نے کہا کہ بھیرہ کا ایک اکسٹرا اسٹنٹ تھا۔اس نے ہم پر بڑے ہی ظلم کئے۔اس نے نہایت ہی طیش اور رنج اور حسرت کے ساتھ اس کے مظالم کا بیان کیا اور کہا کہ ہم قیامت کے دن اس سے بدلہ لیں گے۔میں نے کہا کہ وہ تو ہجرت کرکے مدینہ طیبہ کو چلا گیا۔یہ سنتے ہی اس نے کہا کہ ہم نے معاف کیا۔اس کی ہجرت کی خبر نے ایسا اثر کیا کہ وہ شخص آبدیدہ ہو گیا۔دیکھو خد اتعالیٰ خود ہی اپنے بندوں کے حق العباد کو اس طرح معاف کر دیتا ہے۔(۱۲۰ مئی ۱۹۰۹ ء در درس حدیث) حکیم فضل الدین صاحب کے والد نے ایک مرتبہ مجھ سے کہا کہ ہماری مسجد میں جس قدر مولوی آتے ہیں ہم ان کو علیحدہ لے جا کر سمجھا دیتے ہیں۔وہ انہیں بتائے ہوئے مسائل پر وعظ کرتے ہیں۔میں نے کہا کہ پھر ہم کو تو تم اچھا جانتے ہو گے ؟ کہا کہ تم تو ہمارا کہنا نہیں مانتے وہ کہنا تو مان لیتے ہیں۔(۲۲) جون ۱۹۰۹ء) ایک مرتبہ پنڈ دادنخاں میں کسی مقام پر یعنی ایک گاؤں میں میرا گزر ہوا۔وہاں ایک شخص نے میری بڑی خاطر مدارات کی۔معلوم ہوا کہ وہ میرے باپ کا بڑا معتقد تھا۔بزرگوں کی اولاد سمجھ کر خدمت گزاری اور خاطر داری سے پیش آیا۔چلتی دفعہ اس نے کہا کہ کوئی تعویذ لکھ دو یا کوئی نصیحت کرد یا کوئی بات بتاؤ۔اس وقت مجھ کو اس آیت کا خیال آیا۔لا أقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللهِ وَلَا اَعْلَمُ۔۔۔(سورہ انعام)۔اور مجھ کو بڑا ہی