مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 165
۱۶۵ میں اتنی طاقت نہیں کہ انکو واپس دیں۔چنانچہ اس نے وہ روپیہ واپس نہ لیا اور میں نے خدا تعالی کا فضل یقین کر کے وہ روپیہ لے لیا۔پھر اس کے بعد دیوان کچھمن داس نے میرے ساتھ اس قدر نیکیاں کیں کہ ان کے بیان کرنے کے لئے بڑے وقت کی ضرورت ہے۔ایک دفعہ وہ وزیر اعظم ہو گئے۔ان کو پشتو بولنے کا بڑا شوق تھا اور ہمیشہ اپنی اردل میں پشتو بولنے والے ہی رکھتے تھے۔وزیر اعظم ہو کر انہوں نے اپنے یہاں ایسے پشتو بولنے والوں کو مقرر کیا جو کوئی دوسری زبان نہیں جانتے تھے اور حکم دیا کہ پرائیویٹ ملاقات کے لئے کوئی ہمارے مکان پر نہ آئے۔میں نے ایک روز شیخ فتح محمد صاحب سے کہا کہ آپ وزیر صاحب کے پاس جائیں اور ضرور ملاقات کریں۔انہوں نے کہا کہ وہاں تو پشتون لوگ ہیں جو کسی کی سنتے ہی نہیں۔ٹھوکریں مار مار کر لوگوں کو نکال دیتے ہیں اور بڑے بڑے لوگ وہاں جا کر ذلیل ہو چکے ہیں۔اس وقت رات کے دس بجے تھے۔میں نے کہا اچھا میں دیوان جی کو ابھی ایک خط لکھتا ہوں۔شیخ صاحب نے کہا آپ خط ہر گز نہ لکھیں۔لیکن میں نے انکی بات کو نہ مانا اور اسی وقت خط لکھا کہ یہاں کے لوگ ملاقاتوں کے عادی ہیں۔میں نے سنا ہے آپ نے خطرناک پہرہ بٹھایا ہے۔مہربانی کر کے ایک وسیع کمرہ جس میں ایرانی قالین بچھا ہوا ہو ملاقات کے لئے مقرر فرمائیں کہ لوگ وہاں جا کر بیٹھ سکیں۔باقی جب آپ کا جی چاہے اس کمرہ میں ملاقات کے لئے آئیں اور جس سے چاہیں ملاقات کریں۔جس سے چاہیں نہ کریں۔مگر پشتونوں سے شریف آدمیوں کو دھکے دلوانا آپکی شان کے خلاف ہے۔یہ خط اسی وقت ڈاک میں ڈالا اور ڈاک والے نے فور اوہاں پہنچایا۔ابھی ہم بیٹھے ہی تھے کہ ان کا حقیقی بہنوئی جو ان کا پرائیویٹ سیکرٹری بھی تھا۔لالٹین لئے ہوئے خود ہی میرے پاس پہنچا۔اور کہا کہ آپ کا ایک خط دیوان صاحب نے پڑھا ہے اور آپ کو بلایا ہے۔شیخ فتح محمد صاحب نے منع کیا اور کہا کہ اس وقت نہ جاؤ لیکن میں چلا گیا اور اس وقت وہاں کوئی پہرہ نظر نہ آیا۔دیوان صاحب نے فرمایا کہ دیکھو کہیں پہرہ کا پتہ نہیں۔میں نے اسی وقت موقوف کر دیا ہے اور فلاں کمرہ کو دیکھو اس میں ایرانی قالین بچھا ہوا ہے اور وہ شرفاء کی ملاقات کے لئے مخصوص کر دیا ہے۔