مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 164 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 164

140 وہاں پہنچیں سب بندوبست ہو جائے گا۔یہ فرما کر وہ بھی روانہ ہو گئے۔پھر کیمپ کے مہتمم صاحب جو وہی ایک سب سے پیچھے تھے آئے اور انہوں نے بھی سابق رؤسا کی طرح کام لیا۔اب میں ADATA ALWANALTANA اللہ کی طرف متوجہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا جو دو سرے پر امید رکھتا ہے بڑی غلطی کرتا ہے۔اب میری امید گاہ صرف اللہ تعالیٰ ہی تھا۔اتنے میں دیوان کچھن داس نام جو ان دنوں فوجی افسر تھے گزرے۔انہوں نے جب مجھے دیکھا تو معا اتر پڑے اور کہا کہ کیا تکلیف ہے؟ میں نے کہا کہ میرے ایک پھنسی ہے اس لئے میں سوار نہیں ہو سکتا۔آپ تشریف لے چلیں۔لیکن انہوں نے کہا کہ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ کو یہاں اس حالت میں چھوڑ کر ہم آگے چلے جائیں۔غرضیکہ وہ اتر کر میرے پاس ہی بیٹھ گئے اور باتیں کرتے رہے۔اتنے میں انکی پالکی آئی۔انہوں نے میرے پاس سے اٹھ کر اپنے آدمی کو علیحدہ لے جا کر کچھ حکم دیا اور اس کے بعد خود گھوڑے پر سوار ہو کر چلے گئے۔ان کا آدمی پالکی لے کر میرے پاس آیا اور کہا کہ آپ پالکی میں سوار ہو جائیں اور یہ پالکی جموں واپس ہونے تک آپ کے ساتھ رہے گی۔میں نے اس کو خدا تعالیٰ کا فضل سمجھا اور سوار ہو گیا۔اس میں خوب آرام کا بستر بچھا ہوا تھا۔میں اس میں لیٹ گیا اور شکریہ میں قرآن شریف کی تلاوت شروع کی۔وہ ایک مہینہ کا سفر تھا۔میں الحمد للہ جلدی ہی اچھا ہو گیا اور میں نے پالکی کو رخصت کرنا چاہا۔لیکن پالکی برداروں اور ان کے ہمرا ہی افسر نے کہا کہ ہم کو دیوان جی کا حکم ہے کہ جب تک آپ جموں واپس نہ پہنچیں ہم آپ کی خدمت میں رہیں۔میں نے اس ایک مہینہ میں چودہ پارے قرآن شریف کے یاد کرلئے۔جب ہم جموں واپس پہنچے تو میں نے پالکی برداروں اور ان کے افسر کو انعام دینا چاہا۔لیکن انہوں نے کہا کہ ہم انعام لے چکے ہیں۔ہم کو اسی دن دیوان جی نے انعام اور خرچ کے لئے کافی روپیہ دے دیا تھا اور ان کا حکم ہے کہ آپ سے کچھ نہ لیں۔میں نے اس افسر کو بہت سمجھایا کہ ان کو اطلاع کرنے کی ضرورت نہیں۔مگر اس نے تو اور اپنے پاس سے کسی قدر روپیہ نکال کر میرے سامنے رکھ دیا اور کہا کہ جو روپیہ انہوں نے خرچ کے واسطے دیا تھا وہ بھی سب خرچ نہیں ہوا اور اب ہم