مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 163 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 163

۱۶۳ کہا کہ مجھے ڈر لگتا ہے۔یہاں کبھی کبھی ناسور ہو جاتا ہے آپ اس کچے ورم کو چیر دیجئے۔اس نے عذر کیا کہ میں اوزار اور سامان سب کچھ ابھی بند کر چکا ہوں کہ مبادا صبح کے سفر میں کوئی چیز رہ نہ جائے لیکن جب میں نے بہت سختی سے کہا اور چاقو نکال کر دیا کہ اس سے چیر دیجئے تو ڈاکٹرنے کہا کہ کلور فارم نہیں ہے۔میں نے کہا کہ کلوروفارم کی کوئی ضرورت نہیں۔اس کے دل میں بھی طیش پیدا ہوا۔اس نے بڑی سختی سے شگاف دیا۔میں نے کہا کہ زخم کے دونوں کنارے خوب دبا کر لہو نکال دو اور دونوں لب زخم کے ملا کر باندھ دو۔اس سے جس قدر سختی ہو سکی کی۔مجھے قدرتی کلوروفارم یہ ملی کہ غشی طاری ہو گئی اور ڈاکٹر نے اپنا کام اچھی طرح کیا۔صبح کو ڈاکٹر صاحب سویرے ہی بغیر معائنہ کئے چل دیئے۔میں نے آئینہ نیچے رکھ کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ زخم خدا تعالیٰ کے فضل سے مل گیا ہے۔لیکن اپنے قولی کے گھمنڈ پر میں ایک گھوڑی پر سوار ہو گیا۔اگر چہ میں نے بڑی احتیاط کی اور زین کے ایک طرف رہا۔لیکن چار میل پہنچ کر مجھ میں یہ طاقت نہ رہی کہ میں اس سواری پر رہ سکوں۔چنانچہ میں اتر گیا۔باریک سی شرک کی بو مجھ میں یہ تھی کہ آخر مہتممان کیمپ یہاں سے گزریں گے وہ ضرور ہمدردی کریں گے۔تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ ولی عہد صاحب آئے۔انہوں نے کہا کیوں اتر پڑے ؟ میں نے کہا کہ میں سواری نہیں کر سکتا۔میری طبیعت اچھی نہیں۔ولی عہد صاحب یہ کہہ کر کہ اچھا کیمپ میں آؤ وہاں بندوبست ہو جائے گا اور سرپٹ گھوڑا دوڑا کر چلے گئے۔میں نے کہا کہ ایک بت تو ٹوٹ گیا۔لیکن نفس امارہ نے پھر بھی یہ سمجھا کہ اس کے دوسرے بھائی آئیں گے۔چونکہ وہ میرا ہی علاج کرتے تھے اور مجھ سے ان کا بہت تعلق تھا وہ آئے اور بڑی ہمدردی سے کھڑے ہو گئے۔میں نے کہا کہ میں سوار نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ آپ کیمپ میں پہنچے اور سرپٹ گھوڑا دوڑا کر چل دیئے۔پھر ان کے تیسرے بھائی آئے اور وہ بھی بدستور دریافت کر کے چل دیئے۔پھر راجہ صاحب آئے انہوں نے بڑی محبت سے میرا حال دریافت کیا اور کہا کہ آپ سوار ہو جائیں۔میں نے کہا کہ میں گھوڑے کی سواری نہیں کر سکتا۔انہوں نے فرمایا کہ یہاں سے دو چار میل کے فاصلہ پر کیمپ ہے۔آپ