مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 162
۱۶۲ وقت وہاں حاضر تھے۔سب طب انگریزی سے ناواقف تھے۔میں نے ایک مرکب ایسا بتا دیا جس میں پوڈا فلین تھی اور وہ تشخیص کارگر ہو گئی۔اگر سو دست تھے تو گیارہ رہ گئے۔دو سرے دن بھی میں نے وہی ترکیب استعمال کی۔جس پر انہوں نے باوجود کدورت مجھے کو ایک یا رقندی یا بو مع زمین دیا اور خلعت بھی دیا۔دوسری تقریب یہ ہوئی کہ چنگی کے افسر کو تولنج شدید ہوا اور آدھی رات کے وقت مجھے بلایا۔میں نے یہ سوچ لیا کہ شدت درد کے باعث مسمل مفید نہیں ہوتا۔اس لئے میں نے افیون، کمبوج، نوشادر کا مرکب اپنے پاس سے دیا جس سے اس کا درد قولنج دور ہو گیا۔دوسری عجیب بات یہ ہوئی کہ وہاں ایک دفعہ بہت شدید ہیضہ پھیلا۔وہاں کے راجہ با ہو نام ایک قلعہ میں تشریف لے گئے۔اس سبب سے مجھے بھی وہاں جانا پڑا۔راجہ موتی سنگھ جی بھی تشریف لے گئے۔وہاں پہنچ کر ان کو ذو سنگاریا (جسے ڈسنٹری کہتے ہیں) کا شدید مرض لاحق ہوا۔ساتھ ہی ان کو پیچش بھی تھی اور وہ ہیضہ کے دن تھے۔اس لئے اس قلعہ میں انکو میرے طبی مشورہ کی ضرورت پڑی۔بہت دنوں کی آمد و رفت سے ان کے ساتھ ایک گہرا تعلق پیدا ہو گیا۔انہوں نے جو رقم بطور شکریہ مجھے کو دی تھی وہ سالہا سال برابر دیتے رہے۔مہاراج کے ساتھ ان کے تعلقات میں کسی قدر کدورت تھی۔ان دنوں ایک شاہزادہ کی شادی تھی۔مجھ سے انہوں نے اس کدورت اور شادی کا ذکر کیا۔میں نے ان کو صلاح دی کہ اب شادی کا موقع ہے آپ اس شادی میں ضرور ساتھ چلیں۔اس میں آپ کے اور ان کے تعلقات انشاء اللہ تعالٰی ضرور صاف ہو جائیں گے۔اس کے علاوہ بھی جو مناسب تھا مشورہ دیا۔چنانچہ سمت ۳۷ بکرمی میں مصالحت ہو گئی اور وہ اس شاہزادہ کی شادی میں شریک ہو گئے۔میں بھی ساتھ تھا۔پہلی ہی منزل میں ایک ہاتھی میری سواری میں تھا جس پر ایک عماری تھی اور اس میں دو آدمیوں کے با فراغت بیٹھنے کی جگہ تھی۔اس سواری میں ایک اسپرنگ کے صدمہ سے مجھ کو بہت تکلیف ہوئی۔پھر دوسری منزل میں تو ایسی حالت ہوئی کہ میں سفر کے قابل نہ رہا۔میں نے رات کے دس بجے کے قریب ایک ڈاکٹر کو بلایا جو بنگالی تھا۔میں نے