حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ

by Other Authors

Page 89 of 100

حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ — Page 89

سوانح میاں محمد موسیٰ صحابی حضرت مسیح موعود تمباکونوشی سے نفرت میاں محمد یحیی صاحب نے ایک اور واقعہ سنایا: میرے والد میاں جی کو تمباکو سے سخت نفرت تھی۔راہ میں آتے جاتے کسی کو حقہ پیتے دیکھتے تو حقے کی چلم توڑ دیتے اور نقصان کے ازالہ کے لئے چلم کی قیمت جو ان دنوں ایک آنہ (ایک روپے کا سولواں حصہ) ہوتی تھی ادا کر دیتے اور اس بُری عادت کو ترک کرنے کی تلقین بھی کرتے۔جب سڑک سے گذرتے تو تمبا کو پینے والے ادھر اُدھر چھپ جاتے۔کتاب کے مصنف کو یاد ہے کہ اس کی جوانی کے دنوں میں بڑوں کے سامنے جوان بچے تمباکو نوشی سے گریز کرتے تھے۔ہمارے محلے کا حجام میاں محمد بیٹی صاحب اپنے والد کا یہ قصہ بھی سناتے تھے : ہمارے آبائی گھر واقع فلیمنگ روڈ لاہور کے سامنے ایک عزیز نامی حجام دکان کرتا تھا۔محلے والے اسے کریلا چھیڑتے تھے۔جب بھی گھر میں کریلے پکنے کے لئے آتے تو دادا جان کسی چھوٹے بچے کے ہاتھ اس حجام کو ایک کریلا بھجواتے اور خود گھر کی کھڑکی سے یہ نظارہ دیکھ کر محظوظ ہوتے۔وہ سیخ پا ہو کر اونچی اونچی آواز میں بولنے لگتا۔کبھی کبھی اس کی دکان پر جاکر اس کی دلجوئی کرتے اور اس سے حجامت وغیرہ بھی بنواتے۔ہیں: مٹی کے برتنوں اور مٹھائی کے بارے میں میری پھوپھی زینب بی بی صاحبہ مرحومہ اہلیہ عبد العزیز صاحب بی اے روایت کرتی ایک دفعہ ان کی والدہ رحمت بی بی صاحبہ نے شکایت کی کہ گھر میں مٹی کے برتن یعنی ہانڈیاں اور گھڑے وغیرہ پرانے ہو گئے ہیں اور ان کو تبدیل ہونا چاہیے۔نئے منگوا