حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ

by Other Authors

Page 88 of 100

حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ — Page 88

سوانح میاں محمد موسیٰ صحابی حضرت مسیح موعود مزاح کے چند پہلو حج کی ادائیگی کے بعد والدہ کی وفات میاں محمد موسیٰ صاحب کی باتوں میں مزاح کا پہلو سب کی توجہ کا باعث بنتا۔جس محفل میں بیٹھتے مرکز نگاہ بن جاتے۔میاں محمد یحیی صاحب بتاتے ہیں: ان کے والد میاں محمد موسیٰ صاحب اپنی والدہ ماجدہ کو 1903ء میں فریضہ حج ادا کروانے بیت الحرام تشریف لے گئے۔ان دنوں حج کا سفر عام طور پر بحری جہاز سے ممکن ہوا کرتا تھا اور بہت کھٹن مراحل سے گذرنا پڑتا تھا۔لاہور سے مکہ معظمہ کے سفر کے دوران وہ تندرست رہیں۔حج بیت اللہ کی سعادت پائی اور مقامات مقدسہ کی زیارت بھی کی۔واپسی پر بحری جہاز کے سفر کے دوران ان کی طبیعت اچانک خراب ہوئی۔جہاز میں موجود ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی گئیں لیکن وہ بقضائے الہی وفات پا گئیں۔ابھی منزل پر پہنچنے میں کافی دن تھے اور ان کی میت جہاز پر دیر تک محفوظ نہ رکھی جاسکتی تھی۔حاجی محمد موسیٰ صاحب نے خود جنازہ پڑھایا۔جہاز میں موجود بہت سے لوگوں نے بھی ان کا جنازہ پڑھا۔بحری جہاز کے دستور کے مطابق ان کا تابوت سمندر کی گہرائی میں اتار دیا گیا۔گھر پہنچنے پر اہل خانہ نے پوچھا کہ بے بے جی ساتھ کیوں نہیں آئیں۔اس پر میاں جی نے کہا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے ان کو دریائے نیل میں بہا دیا تھا۔اب میاں محمد موسیٰ کی باری تھی اور اس نے اپنی والدہ کو سمندر کی لہروں کے سپرد کر کے تاریخ کو دہرا دیا۔پھر کہا کہ حج سے واپسی کے دوران بحری جہاز پر سخت بیمار ہو گئیں اور اللہ کو پیاری ہو گئیں۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔( القرآن۔البقرة: 157)