حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ

by Other Authors

Page 16 of 100

حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ — Page 16

سوانح میاں محمد موسیٰ صحابی حضرت مسیح موعود نہ لوٹتے جب تک حضرت اقدس علیہ الصلواةُ وَ السَّلام واپس جانے کی اجازت نہ دیتے۔یہ طریق کار حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی حضرت مسیح موعود سے لازوال محبت کی یاد دلاتا ہے جس سے جماعت احمدیہ کے احباب اچھی طرح واقف ہیں۔محض خدا تعالیٰ کے فضل سے اور حضور کی دعاؤں کے نتیجے میں آپ کے اخلاص اور تقویٰ میں استقامت اور استقلال پیدا ہوا اور انعامات الہیہ کے دروازے کھلتے چلے گئے جس کا ثمر آپ کی نسلوں میں جاری وساری ہے۔حاجی محمد موسیٰ صاحب جماعت کی مالی معاونت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب بھی کوئی مالی تحریک یا چندہ کا جماعت سے مطالبہ کیا تو آپ نے اس پر لبیک کہا۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کتاب یا اشتہار کی اشاعت کے لئے جماعت کو ایک نماز کے بعد مالی تحریک کی۔میاں محمد موسیٰ صاحب اسی وقت قادیان سے لاہور چلے گئے۔گنج مغلپورہ لاہور میں آٹھ اکٹھے مکان ایک احاطہ کی شکل میں ان کی ملکیت تھے۔اس جگہ کو فروخت کر کے تمام رقم حضرت مسیح موعود کو پیش کر دی۔یہ جگہ اب بھی ”سرائے موسیٰ “ کہلاتی ہے۔میاں محمد موسیٰ لازمی چندہ جات کی ادائیگی کے علاوہ دوسرے چندوں کی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔آپ نے شدھی کی تحریک میں بھی نمایاں حصہ لیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آخری ایام میں آپ کے بارے میں مندرجہ ذیل تعریفی کلمہ کہا جو سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہے۔2 موسی صاحب آپ نے دین کی بہت خدمت کی۔“ نبی اللہ کی زبانِ مبارک سے نکلے ہوئے یہ الفاظ ایک سچے عاشق کی نشاندہی کرتے ہیں۔میاں محمد موسیٰ نے مساجد کی تعمیر کے لئے اپنے اموال بے دریغ خرچ کیے۔کوشش کرتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سفروں میں ان کے ہمرکاب ہوں۔حضور اور 2 لاہور تاریخ احمدیت مرتبہ حضرت شیخ عبد القادر صاحب ، حاجی میاں محمد موسی“، صفحہ 310، مطبوعہ فروری 1966ء ، ناشر عبد المنان کوثر، طاہر مہدی امتیاز احمد وڑائچ نے ضیا الا سلام ربوہ ( چناب نگر) سے طبع کیا۔16