حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ — Page 17
سوانح میاں محمد موسیٰ صحابی حضرت مسیح موعود ان کے قافلے کے قیام و طعام کا خیال رکھیں۔اس عاشق کی یہ بے غرض قربانیاں حضرت مہدی علیہ الصلواۃ و السلام کے علم میں تھیں۔اپنے آقا کی وفات کے بعد خلفائے احمدیت سے بھی وفا کا ناطہ جوڑے رکھا۔حضرت خلیفة المسیح الثانی نے قادیان میں ریل کے اجراء کے لئے آپ کی ڈیوٹی لگائی۔محمد موسیٰ صاحب نے اپنے اموال اور وقت خرچ کر کے اس عظیم پر اجیکٹ کو پائے تکمیل تک پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا اور خلیفہ وقت کی دعاؤں کے وارث بنے۔آپ جب صاحب فراش تھے تو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے آپ کے گھر جاکر ان کی عیادت کی اور حضرت اُمّم طاہر کے لئے دعا کا کہا جو ان دنوں لاہور میں بیمار تھیں۔حضرت مصلح موعودؓ کی جانب سے میرے دادا جان کے لئے یہ انتہائی عقیدت اور محبت کا اظہار تھا۔خاکسار نے اپنے والد محترم میاں محمد بیٹی صاحب سے ان کے والد میاں محمد موسیٰ صاحب کے بارے میں بہت سی روایات سنیں جو لکھ لی گئیں۔اس وقت ان کا تذکرہ کرنا مقصود ہے۔کافی روایات جو آپ کے بارے میں اس کتابچہ میں بیان ہوں گی وہ خلفائے احمدیت کے خطبات، تاریخ احمدیت مؤلّفہ حضرت مولانا دوست محمد صاحب شاہد اور لاہور تاریخ احمدیت مصنفہ حضرت شیخ عبد القادر صاحب (سابق سوداگر مل) سے شامل کی گئی ہیں۔ان کتب میں سن کی کچھ غلطیاں مشاہدے میں آئی ہیں ان کو حوالہ جات کی مدد سے درست کر دیا گیا ہے تاکہ میاں محمد موسیٰ صاحب کی خدمات اور واقعات سند کے ساتھ جماعت احمدیہ کے لٹریچر میں محفوظ ہو جائیں۔وما توفیقی الا باللہ۔کتاب کے اس ایڈیشن میں کچھ نئے حوالہ جات شامل کئے گئے ہیں۔اگر کوئی حوالہ دوبارہ آجائے تو اس کی نشاندھی حاشیہ میں کر دی گئی ہے۔پہلے ایڈیشن کی چند اغلاط کو درست کیا گیا ہے۔واقعات کی ترتیب کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔میں دعا گو ہوں اور امید کرتا ہوں کہ یہ کتاب اگلی نسلوں کے لئے مشعل راہ ثابت ہو۔حضرت میاں محمد موسیٰ رضی اللہ عنہ کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ، خلفائے احمدیت سے خصوصی عقیدت اور جماعت احمدیہ کے لئے عمومی خدمات یقینا نئی نسل میں جوش و خروش پیدا کریں گی اور وہ احمدیت کی خدمت کے لئے تیار رہیں گے۔واقعات جو 17