حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ

by Other Authors

Page 15 of 100

حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ — Page 15

سوانح میاں محمد موسیٰ صحابی حضرت مسیح موعود ابتدائیہ حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ صاحب آف نیلا گنبد لاہور کا شمار حضرت مسیح موعود و مهدی مہود علیہ الصلوۃ و السلام کے جید صحابہ میں ہوتا ہے۔جماعت احمد یہ لاہور کے صف اول کے صحابی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں آنے سے پہلے آپ کا تعلق اہل حدیث مسلک سے تھا۔بہت سی احادیث زبانی یاد تھیں۔پابند صوم و صلوۃ تھے۔قرآن کی تلاوت کثرت سے کرتے تھے۔اردو انگریزی فارسی کشمیری اور پنجابی زبانیں بول لیتے تھے۔سادہ لباس زیب تن کرتے اور ہمیشہ گفتگو میں شائستگی کا پہلو نمایاں ہو تا۔میاں محمد موسیٰ نے 1902ء میں ایک خط کے ذریعے حضرت مسیح موعود سے ان کی صداقت کا ثبوت مانگا۔آپ کے جواب سے مکمل تسلی ہو گئی اور ہر قسم کے شکوک و شبہات جو شاید مخالفین نے ان کے دماغ میں ڈال دیے تھے ہمیشہ کے لئے دور ہو گئے۔حضرت مسیح موعود کا یہ شعر ان کی اندرونی کیفیت کی عکاسی کرتا ہے۔1 صاف دل کو کثرت اعجاز کی حاجت نہیں اک نشاں کافی ہے گر دل میں ہے خوف کر دگار میاں محمد موسیٰ نے احمدیت یعنی حقیقی اسلام دیانت داری سے قبول کیا اور پھر کبھی مڑ کر پیچھے نہ دیکھا۔حضرت مسیح موعود سے حد درجہ کی عقیدت اور محبت تھی اور کوئی ان کو اپنے آقا سے دور نہ کر سکتا تھا۔بہت دعا گو بزرگ تھے۔ہر کام فہم و فراست سے کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود کی بیعت میں آنے کے بعد گاؤں کے رشتہ داروں نے آپ سے رشتہ ناطہ توڑ لیا۔آپ نے اس کی قطعا پر واہ نہ کی۔حضرت مسیح موعود کی صحبت میں زیادہ وقت گزارنے کے لئے ایک لمبے عرصہ تک آپ کے اقتداء میں جمعہ پڑھنے کے لئے لاہور سے قادیان سفر کرتے اور اس وقت تک گھر ۱ در ثمین اردو مؤلفه حضرت مرزا غلام احمد قادیانی، مسیح موعود، بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ ، صفحہ 127، ناشر نظارت اشاعت ربوہ پاکستان، ضیاء الاسلام پریس ربوہ