حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ

by Other Authors

Page 92 of 100

حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ — Page 92

سوانح میاں محمد موسی صحابی حضرت مسیح موعود جماعتی پکنک کے دوران دریا پر المناک حادثہ نومبر 1945ء میں دادا جان میاں محمد موسیٰ صاحب اپنے کاروبار کے سلسلہ میں دہلی کے ایک ہوٹل میں مقیم تھے کہ ان کے ایک ہندو دوست نے اخبار میں تین بچوں کی دریائے راوی میں ڈوبنے کی خبر دکھائی اور کہا میاں موسیٰ صاحب یہ تو آپ کے اپنے پوتے ہیں۔یہ خبر ان پر بجلی بن کر گری۔آپ فوراً لا ہور چلے آئے اور دیکھا کہ پورے شہر میں کہرام مچا ہوا ہے اور سارا شہر غم کی حالت میں ہے۔جگہ جگہ تین بچوں کا دریائے راوی میں ڈوبنے کا چرچہ ہے۔شہر کے سر کردہ اخباروں نے اس خبر کو پہلے صفحہ پر نمایاں چھاپا ہوا ہے۔واقعہ یوں ہے کہ خدام الاحمدیہ لاہور کے زیر اہتمام دریائے راوی لاہور پر 11 نومبر 1945ء کو ایک پکنک منعقد ہوئی۔خدام دریا پر کشتی رانی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ہمارے خاندان کے پانچ اور بارہ دوسرے خدام ایک ہی کشتی میں سوار تھے۔کشتی دریا میں اچانک ڈوب گئی۔خدام نے ایک دوسرے کی جانیں بچانے کے لئے دریا میں چھلانگیں لگا دیں۔کوشش کے باوجود تین خدام دریا کی لہروں میں گم ہو گئے۔بچوں کو کافی تگ و دو کے بعد پانی سے نکال کر ہسپتال پہنچایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔ان کی نعشوں کو دوسرے روز یعنی 12 نومبر کو قادیان لے جایا گیا۔بعد از نماز مغرب حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے مدرسہ احمدیہ کے صحن میں نماز جنازہ پڑھائی اور جنازے بچوں کے قبرستان کے ساتھ کی زمین میں دفن کئے گئے۔بعد تدفین حضرت مرزا بشیر احمد رضی اللہ تعالیٰ نے دعا کروائی۔وہ تینوں بچے موسیٰ خاندان کے ہی چشم و چراغ تھے۔ان کے نام یہ تھے۔113 1۔عبد الواحد ابن میاں عبد الماجد صاحب عمر پندرہ سال 2۔منیر احمد ابن میاں عبد الماجد صاحب عمر چھ سال 113 لاہور تاریخ احمدیت مرتبہ حضرت شیخ عبد القادر صاحب, صفحہ 528 تا529، مطبوعہ فروری 1966ء،ناشر عبدالمنان کوثر، طاہر مہدی امتیاز احمد وڑائچ نے ضیا الا سلام ربوہ ( چناب نگر) سے طبع کیا۔