حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ — Page 91
سوانح میاں محمد موسیٰ صحابی حضرت مسیح موعود گاؤں کے مولوی کا ایک دلچسپ واقعہ اپنے گاؤں میں میاں محمد موسیٰ صاحب نے ایک مسجد نماز باجماعت ادا کرنے کے لئے بنوار کبھی تھی۔مولوی صاحب کے کھانے کا انتظام اپنے گھر سے کر دیا اور اس کے علاوہ کچھ حصہ ہر فصل میں سے بھی دیتے تھے۔قبول احمدیت کے بعد جب میاں محمد موسیٰ اپنے گاؤں گئے تو مولوی ان کو مسجد میں نماز پڑھنے سے تو نہ روک سکا لیکن آپ جب لاہور واپس چلے گئے تو گاؤں والوں کو آپ کے خلاف اکسایا اور کہا کہ مسجد میں مرزائی نے نماز پڑھی ہے اس لئے اب یہ پلید ہو گئی ہے۔سب گاؤں والوں کا فرض ہے کی مسجد کی مل کر دھلائی کریں تاکہ مسجد پاک ہو جائے۔گاؤں میں مولوی کی بات نہیں ٹالی جاتی کیونکہ لوگوں نے اس سے جنازہ اور نکاح وغیرہ پڑھوانا ہوتا ہے۔لوگوں نے مولوی کے اصرار پر مسجد دھوئی۔کچھ دنوں کے بعد جب محمد موسیٰ صاحب دوبارہ گاؤں پہنچے تو ان کو اپنے ایک مزارع نے یہ بات بتا دی۔میاں محمد موسیٰ کو اس بات پر بہت غصہ آیا اور انہوں نے مسجد جا کر مولوی کی داڑھی پکڑ لی اور کہا کہ اگر میرے نماز پڑھنے سے مسجد پلید ہو جاتی ہے تو اب تمہاری داڑھی بھی پلید ہو چکی۔اگر تم میں ذرا بھی حیا ہے تو اس کو فوراًمنڈوا دو۔حاجی محمد موسیٰ صاحب کا گاؤں میں بہت رعب اور دبدبہ تھا۔لوگوں کو پتہ تھا کہ ان کو تو عدالت میں بھی کر سی مل جاتی ہے اور وہ بہت رکھ رکھاؤ والے آدمی ہیں۔مولوی نے بھانپ لیا کہ مسجد کی امامت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔اس لئے اس نے اُن سے فوراً معافی مانگی اور معاملہ رفع دفع ہوا۔اس کے بعد ایسی حرکت کرنے کی گاؤں میں کسی نے جرآت نہ کی۔میاں محمد موسیٰ نے احمدیت کے عقیدہ کا بانگ دہل اعلان کر رکھا تھا۔