حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ

by Other Authors

Page 81 of 100

حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ — Page 81

سوانح میاں محمد موسیٰ صحابی حضرت مسیح موعود میں قریبی سکول میں استاد ہوں۔یہ بچہ تعلیم پر توجہ نہیں دیتا۔ہر مضمون میں کمزور ہے۔گھر پر دیا ہوا پڑھائی کا کام بھی کر کے نہیں لاتا۔اس کو بار بار توجہ دلائی ہے لیکن یہ اس کی پرواہ نہیں کرتا۔میاں موسیٰ صاحب نے کہا: طالبعلموں کو مارنا غیر اخلاقی فعل ہے۔اگر یہ آپ کی خواہش کے مطابق نہیں پڑھتا تو اس کے والدین سے شکایت کریں۔بچوں کو پیٹنے سے وہ سدھرتے نہیں۔“ استاد نے ان کی تجویز پر لبیک کہا اور محمد موسیٰ صاحب سے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ طلباء کو سزا نہیں دے گا۔میاں محمد موسیٰ صاحب نے اسے تنبیہ کی کہ اگر انہیں پتہ چلا کہ اس نے بچوں کو دوبارہ سزا دی ہے تو وہ اسے جیل بھجوا دیں گے۔اس علاقہ میں لوگوں کو معلوم تھا کہ موسیٰ صاحب بڑے اثر رسوخ والے آدمی ہیں۔کورٹ کچہری میں سب ان کو جانتے ہیں۔حضرت مسیح موعود نے سیالکوٹ کو اپنا دوسرا وطن قرار دیا تھا۔وہ بچوں کو مارنے کے خلاف تھے۔آپ فرماتے ہیں: ”میرے نزدیک بچوں کو یوں مارنا شرک میں داخل ہے۔گویا بد مزاج مارنے والا ہدایت اور ربوبیت میں اپنے تئیں حصہ دار بنانا چاہتا ہے۔۔۔کاش دعا میں لگ جائیں اور بچوں کے لئے سوزِ دل سے دعا کرنے کو ایک حزب ٹھہر الیں۔اس لئے کہ والدین کی دعا کو بچوں کے حق میں خاص قبول بخشا گیا ہے۔یہ وجہ تھی کہ میاں محمد موسیٰ صاحب بچوں کو مارنا قطعاً پسند نہ کرتے تھے۔بچے اپنے ہوں یا غیر کے وہ ان سے محبت کرتے تھے۔107" ملفوظات (Set of five volume ، مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی، بانی جماعت احمدیہ ، جلد 1، صفحہ 308-9، ایڈیشن 2010- ناشر نظارت نشر و اشاعت قادیان، انڈیا 81