حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ — Page 80
سوانح میاں محمد موسی صحابی حضرت مسیح موعود فلاح و بہبود کے کام دادا جان میاں محمد موسیٰ کو بیعت سے پہلے جب بھی کاروبار سے فرصت ملتی تو وہ اپنی زمینوں کی دیکھ بھال کے لئے گاؤں چلے جاتے اور فصل مالیہ وغیرہ کا حساب کرتے۔عام طور پر میری دادی جان یعنی ان کی اہلیہ بھی ان کے ہمراہ ہو تیں تا کہ اگر ضرورت پڑے تو ان کو بھی زمینی معاملات کا علم ہو۔گاؤں جانے کے لئے تین سے چار میل کا سفر پیدل کرنا پڑتا تھا۔کوئی سڑک نہ تھی اور بارشوں کے دنوں میں بہت تکلیف اُٹھانا پڑتی تھی۔ایک دفعہ گاؤں جاتے ہوئے ہماری دادی صاحبہ ایک ندی نالہ پھلانگتے ہوئے گر پڑیں۔بہت چوٹیں آئیں۔دادا جان نے کچھ دنوں کے بعد ہی گاؤں کے رستے میں تمام ندی نالوں پر پل بنوا دیئے اور گاؤں تک کچی سڑک بنوادی۔اس کے علاوہ راستہ میں مسافروں کے پانی پینے کے لئے ہینڈ پمپ لگوادیا۔ان فلاح و بہبود کے کاموں کو سب گاؤں والوں نے بہت سراہا۔میری پھوپھی زاد بہن محترمہ ثریا جاہ صاحبہ اہلیہ ملک محمد خان صاحب مرحوم جو کہ محترمه مریم بی بی صاحبہ دختر میاں محمد موسیٰ صاحب کی بیٹی ہیں مندرجہ ذیل روایت خاکسار کو بیان کی: میاں محمد موسیٰ صاحب ( ثریا جاہ کے نانا جان ) ان کی والدہ کی خیریت معلوم کرنے کو ٹلی لوہاراں مغربی ضلع سیالکوٹ جایا کرتے تھے۔وہ سیالکوٹ بس سٹینڈ سے ٹانگہ پر گھر جاتے۔رات اپنی بیٹی کے ہاں نہ ٹھہرتے۔ٹانگہ گھر کے باہر ہی کھڑار کھتے۔کچھ دیر کے بعد ٹانگہ سے بس سٹینڈ اور پھر لاہور واپس چلے جاتے۔ایک دفعہ غالباً 1932ء کا واقعہ ہے کہ جب وہ سیالکوٹ سے واپس لوٹ رہے تھے تو راستے میں انہوں نے ایک شخص دیکھا جو تقریباً 12 سالہ بچے کو ڈنڈے سے زور زور سے پیٹ رہا تھا۔وہ ٹانگے سے اترے۔ڈنڈا اس سے چھینا اور واپس اس کو مار ناشروع کر دیا۔اس نے کہا: