لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 97
فرمایا تھا کہ الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيْمَان کہ حیاء ایمان کا حصہ ہے لیکن آج اس کے فقدان کی وجہ سے ننگے لباس اور عریانی اور نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کا آپس میں بلا روک ٹوک میل ملاپ عام ہے۔ایسے گروپس بن رہے ہیں اور مجالس ہوتی ہیں جن سے معاشرہ بھی آلودہ ہو تا ہے اور بچوں کے کردار پر بھی منفی اثرات پڑتے ہیں اور یہ سب کچھ آزادی کے نام پر کیا جارہا ہے۔ایسے معاشرے میں اپنی آئندہ نسلوں کی تربیت کے لئے ہمیں بہت زیادہ فکر اور دعا کی ضرورت ہے۔ہم خدا کے فضل سے احمدی ہیں۔ہم نے معاشرے کے رنگ میں رنگین نہیں ہو نا بلکہ زمانے کی روش کو بدلنا اور صراطِ مستقیم پر چلنا سیکھنا اور سکھانا ہے۔اگر ہمارے ہی بچے اور بچیاں ماحول کی برائیوں سے متاثر ہو جائیں، غلط قسم کی دوستیوں اور ناپسندیدہ حرکات میں مبتلا ہو جائیں تو یہ بہت فکر والی بات ہے۔ہماری اگلی نسل کی عمارت لڑکیوں نے قائم کرنی ہے۔اس لئے احمدی ماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بچیوں کی بہترین تربیت کی طرف بہت زیادہ توجہ دیں اور ان کی نگرانی کرتی رہیں۔ان کی دینی اور دنیوی تعلیم کا خیال رکھیں اور ان کے لئے دعائیں کریں۔آنحضرت صلی الیم نے فرمایا ہے کہ بہترین تحفہ جو ماں باپ اپنے بچے کے لئے پیش کرتے ہیں یا اُس کو دے سکتے ہیں وہ ان کی بہترین تربیت ہے۔“ 97