لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 98
اس لئے یا درکھیں کہ بچوں کی عمدہ تربیت ہی ہے جس سے ہماری آئندہ نسلوں کے نیک انجام کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔ہر بچی کے دل میں نیکی اور تقویٰ کا بیج ڈالیں۔ہوش کی عمر کو پہنچنے والی بچیوں کا بھی کام ہے کہ وہ اپنے تقدس اور عصمت کا خیال رکھیں۔اگر بعض فیشن اس لئے کئے جائیں کہ یہاں کا معاشرہ یہ پسند کرتا ہے لیکن اس سے بے پردگی ہو رہی ہو اور جسموں کی نمائش ہو رہی ہو تو یہ ایمان کی کمزوری ہے اور اللہ تعالیٰ سے محبت میں کمی کا نتیجہ ہے۔اس لئے احمدی بچیوں کا یہ فرض ہے کہ وہ بے جا فیشنوں سے پر ہیز کریں۔اپنی زینت غیروں سے چھپائیں۔گریبانوں، سر، گردن اور سامنے کے حصوں کو ڈھانپ کر رکھیں۔جو برقعہ پہننا ہے وہ ڈھیلا ڈھالا ہو۔لباس مناسب اور باحیا ہو۔حیا ایک احمدی عورت اور بچی کی پہچان ہونا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بے پردگی کے حوالہ سے نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ " یہ ہر گز مناسب نہیں ہے۔یہی عورت کی آزادی فسق و فجور کی جڑ ہے۔جن ممالک نے اس قسم کی آزادی کو روا رکھا ہے ذرا ان کی اخلاقی حالت کا اندازہ کرو۔اگر اس آزادی اور بے پردگی سے اُن کی عفت اور پاکدامنی بڑھ گئی ہے تو ہم مان لیں گے کہ ہم غلطی پر ہیں۔“ ملفوظات جلد ہفتم۔صفحہ 134) 98