لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 83
پھر تلاوت قرآن کریم ہے۔اس میں بھی باقاعدگی ہونی چاہئے۔روزانہ صبح کے وقت ہر احمدی گھر سے تلاوت کی آواز اٹھنی اور سنائی دینی چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں تلاوت کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کے لئے سب سے زیادہ موزوں وقت بھی بتا دیا ہے اور پھر یہ کہ کس طرح تلاوت کرنی چاہئے اس کی طرف بھی ہماری راہنمائی فرما دی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان قرآن الفجر کان مشھودا۔(سورۃ بنی اسرائیل: 19) مطلب یہ کہ یقیناً فجر کو قرآن پڑھنا ایسا ہے کہ اُس کی گواہی دی جاتی ہے۔نیز فرمايا: رتل القرآن ترتیلا۔(سورة المزمل : ی) یعنی قرآن کریم کو خوش الحانی سے پڑھا کرو۔احادیث میں بھی جابجا تلاوتِ قرآن کی اہمیت اور برکات کا مضمون بیان ہوا ہے۔تلاوت قرآن کریم یقیناً ایک ایسا بابرکت اور باشمر عمل ہے کہ جس سے انشاء اللہ آپ کی آئندہ نسلیں سنور جائیں گی۔اس سے خیالات میں پاکیزگی پیدا ہوتی ہے۔نیکیوں پر قدم مارنے کی توفیق ملتی ہے۔دینی علم بڑھتا ہے اور محبوب حقیقی کا درشن ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” وہ خدا جس کے ملنے میں انسان کی نجات اور دائمی خوشحالی ہے وہ بجز قرآن شریف کی پیروی کے ہر گز نہیں مل سکتا۔۔۔یقینا سمجھو کہ جس طرح یہ ممکن نہیں کہ ہم بغیر آنکھوں کے دیکھ سکیں یا بغیر کانوں کے سن سکیں یا بغیر زبان کے بول سکیں اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ بغیر قرآن کے اس پیارے محبوب کا منہ دیکھ سکیں“ 83