لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 80
بلند کہہ دیتے ہیں کہ سیدھا راہ جس سے انسان بہشت میں داخل ہوتا ہے یہی ہے کہ شرک اور رسم پرستی کے طریقوں کو چھوڑ کر دین اسلام کی راہ اختیار کی جائے۔اور جو کچھ اللہ جل شانہ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے اور اس کے رسول صلی ایم نے ہدایت کی ہے اس راہ سے نہ بائیں طرف منہ پھیریں نہ دائیں۔اور ٹھیک ٹھیک اسی راہ پر قدم ماریں۔اور اس کے بر خلاف کسی راہ کو اختیار نہ کریں۔۔۔ہماری قوم میں یہ بھی ایک بد رسم ہے کہ شادیوں میں صدہا روپیہ کا فضول خرچ ہوتا ہے۔سو یا د رکھنا چاہئے کہ شیخی اور بڑائی کے طور پر برادری میں بھاجی تقسیم کرنا اور اس کا دینا اور کھانا یہ دونوں باتیں عند الشرح حرام ہیں اور آتش بازی چلو انا اور کنجروں اور ڈوموں کو دینا یہ سب حرام مطلق ہے۔ناحق روپیہ ضائع جاتا ہے۔گناہ سر چڑھتا ہے۔صرف اتنا حکم ہے کہ نکاح کرنے والا نکاح کے بعد ولیمہ کرے۔یعنی چند دوستوں کو بلا کر کھانا کھلا دیوے۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 67 تا 71) پس میری پہلی نصیحت تو یہ ہے کہ بدر سوم سے بچیں اور سچ مچ اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے فضول خرچی اور دیگر منہیات سے بچیں جن سے بچنے کا خدا اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے۔محض دنیاوی نمود و نمائش اور ایک دوسرے سے مقابلہ بازی 80