لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 265
یہ فلاح پانے کا ذریعہ ہے۔اس سے دائمی تحفظ اور سلامتی عطا ہوتی ہے۔اگر عور تیں پر دہ کریں تو بے شمار خطر ناک اور نامناسب حالات سے محفوظ رہ سکتی ہیں۔میں نے عملی اصلاح کے موضوع پر سلسلہ وار خطبات دیئے تھے اور واضح کیا تھا کہ اس کی کنجی یہ ہے کہ کسی گناہ یا برائی کو چھوٹا یا معمولی نہیں سمجھنا چاہئے۔جب ہم کوئی ایسا عمل کرتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی تعلیمات کے خلاف ہو تو ہم اللہ تعالیٰ سے دور ہو جاتے ہیں اور اس کے فضلوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔آج اسلام کو ہر طرف بد نام کیا جارہا ہے کہ نعوذ باللہ اسلام عورتوں پر سختی اور ظلم کی تعلیم دیتا ہے۔پر دہ عورت سے اس کے بنیادی حقوق چھینتا ہے۔اگر معاشرے کا خوف یا ماحول کی عمومی حالت دینی احکامات پر عمل کرنے سے جھینپنے یا شرمانے والی بنارہی ہو۔آپ بھی یہ سمجھنے لگیں کہ یہ احکامات فرسودہ ہیں اور نئے زمانہ سے مطابقت نہیں رکھتے تو وہ غلط ہے۔اس زمانہ میں جو راستے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دکھائے ہیں وہی عافیت کے حصار کی طرف لے جانے والے ہیں۔پس ہمیں کسی اعتراض کرنے والے سے متاثر ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔وہ ہمارے ہمدرد بن کر ہمیں مذہب سے دور ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔اس لئے بجائے ایسے لوگوں کی باتوں 265