لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 129 of 336

لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 129

یاد رکھیں کہ دینی اور روحانی دنیا میں محض جسمانی رشتوں کی تو کچھ اہمیت نہیں، ہمیشہ روحانی تعلق کو ہی اصل تعلق قرار دیا گیا ہے جس کی بنیاد عمل صالح پر رکھی گئی ہے۔بلکہ قرآن کریم میں تو عمل کے بغیر محض جسمانی رشتے کو کالعدم ہی سمجھا گیا ہے۔حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کی مثال ہمارے سامنے ہے۔باوجو د ظاہری اور جسمانی رشتے کے وہ سزا سے نہ بچ سکا اور اللہ تعالیٰ نے اسکی وجہ یہی بیان فرمائی کہ : إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ (مود : 47) یعنی اعمال صالحہ نہ ہونے کی وجہ سے اس کا شمار تیرے اہل میں نہیں ہو سکتا۔یہی بات آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام اعزہ و اقارب کو اور خاص طور پر اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کو بھی یہ کہتے ہوئے باور کروائی کہ اللہ کے مقابل پر میں تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکتا۔تمہارے عمل ہی کام آئیں گے۔(بخاری، کتاب التفسیر ) لہذا کبھی نہ بھولیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ، اسلام کے ساتھ ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ، احمدیت کے ساتھ ، خلافت کے ساتھ اور خود آپ کے ساتھ ، آپ کی اولاد اور آپ کی اگلی نسلوں کے حقیقی تعلق کا مدار ان کے اعمال صالحہ پر ہے اور ان کو اعمال صالحہ کی نہج پر ڈالنے کی ذمہ داری آپ کے سپر د ہے۔پس یہ 129