لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 128
ہے جو اس طرح آپ کی نس نس میں رچ بس جانا چاہئے کہ مائیں اپنے دودھ میں اور گھٹی میں یہ درس اگلی نسلوں کو پلا کر پروان چڑھا رہی ہوں۔جب تک یہ امور ہمہ وقت پیش نظر نہ ہوں گے ہماری اگلی نسلوں کے اعلیٰ معیار کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔اس لئے اسے کوئی رسمی سی بات اور عام سی نصیحت نہ سمجھیں بلکہ اس سے جماعت احمدیہ کا مستقبل وابستہ ہے۔اس لئے اس پر ہمیشہ غور کرتے رہیں اور اس پر عمل کے ہر ممکن طریقے اختیار کرنے کے لئے کوشاں رہیں۔میں اس پر اتنا زور اس لئے دے رہا ہوں کیونکہ کبھی کبھار نہایت مخلص اور جماعت سے مضبوط تعلق رکھنے والے بھی ان باتوں کا خیال نہیں رکھتے۔وہ بظاہر یہی سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہماری اولا د ہمارے نقش قدم پر ہی چلے گی اور انکی اولا دیں بھی یہی سمجھ رہی ہوتی ہیں کہ ہم تو بڑے مخلص ہیں کیونکہ ہمارے باپ دادا کا شمار ایسے ایسے مخلصین میں ہو تا تھا لیکن تربیت کی کمی کی وجہ سے ان میں وہ اخلاص و اخلاق اور عبادات اور جماعتی روایات منتقل نہیں ہو سکیں جن پر ان کے آباء واجداد قائم تھے اور آنے والی نسل محض اپنے آباء و اجداد کے ساتھ اپنے جسمانی رشتے کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھتی ہے۔اس طرح ایک خلاء سا پیدا ہو جاتا ہے جو بے شمار خرابیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔اس لئے ہر لمحہ ان باتوں کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔128