لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 101
کا تذکرہ ہو تا رہنا چاہئے۔انہیں یہ بھی بتائیں کے ہر احمدی کا خلیفہ وقت کے ساتھ ذاتی تعلق ہونا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت اور خلافت کے در میان اخلاص و وفا کا جو لازوال رشتہ ہے اس کی روئے زمین پر کہیں کوئی مثال نہیں ملتی۔اس لئے جہاں اپنے اخلاص کے معیار بڑھائیں وہاں بچوں کو بھی خلافت اور نظام جماعت سے وفاداری اور اطاعت کا درس دیتی رہیں۔انہیں جماعتی کاموں میں شامل کریں اور ان کے لئے دعائیں کرتی رہیں۔ان کی دنیوی تعلیم کے ساتھ ان کی دینی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دیں۔دین کی باتیں سیکھنے کے لئے بچپن کی عمر بہترین عمر ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” مجھے خوب یاد ہے کہ طفولیت کی بعض باتیں تو اب تک یاد ہیں لیکن پندرہ برس پہلے کی اکثر باتیں یاد نہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی عمر میں علم کے نقوش ایسے طور پر اپنی جگہ کر لیتے ہیں اور قویٰ کے نشو و نما کی عمر ہونے کے باعث ایسے دلنشیں ہو جاتے ہیں کہ پھر ضائع نہیں ہو سکتے۔غرض یہ ایک طویل امر ہے۔مختصر یہ کہ تعلیمی طریق میں اس امر کا لحاظ اور خاص توجہ چاہئے کہ دینی تعلیم ابتداء سے ہی ہو۔اور میری ابتداء سے یہی خواہش رہی ہے اور اب بھی ہے۔اللہ اس کو پورا کرے۔“ 101