میری والدہ — Page 87
۸۷ خاں کے گھر سے اور ہمشیرہ صاحبہ تو ہفتہ کی شام کو واپس چلی جائیں اور میں خود اتوار کی شام کو واپس شملہ چلا جاؤں گا اور میرے تینوں بھائی بھی اتوار کی شام کو واپس چلے جائیں۔کیونکہ یہ توقع کی جاتی تھی کہ اس وقت تک والدہ صاحبہ کی حالت رو بصحت ہو چکی ہوگی۔۴ ارمئی ہفتہ کے دن دو پہر تک والدہ صاحبہ کی وہی حالت رہی۔دوپہر کے وقت سب لوگ تو عزیز بشیر احمد کے ہاں کھانا کھانے کے لئے چلے گئے۔والدہ امتہ ائی، اور خاکسار والدہ صاحبہ کے پاس رہے۔کھانا کھانے کے بعد ۲ بجے کے قریب خاکسار وضو کر رہا تھا کہ مجھے کسی نے آواز دی کہ والدہ صاحبہ یاد فرماتی ہیں۔میں ان کے کمرہ میں گیا تو دیکھا کہ انہوں نے اپنی نبض پر ہاتھ رکھا ہوا ہے۔مجھے دیکھ کر مسکرائیں اور کہا آؤ بیٹا اب آخری باتیں کر لیں اور اپنے بھائیوں اور بہن کو بھی بلا لو۔ڈاکٹر صاحب اس وقت کمرہ ہی میں ٹیکا تیار کر رہے تھے۔انہوں نے انگریزی میں مجھ سے کہا۔دل کی حالت بگڑ گئی ہے اور قبض بھی بہت کمزور ہوگئی ہے۔لیکن میں نے والدہ صاحبہ سے کچھ نہیں کہا۔انہوں نے خود ہی نبض سے شناخت کر لیا ہے۔اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے ٹیکا کیا اور سول سرجن صاحب کو بھی ٹیلیفون پر بلا لیا۔ٹیکا کرنے کے تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر صاحب نے نبض دیکھ کر کہا۔بے بے جی اب تو نبض ٹھیک چل رہی ہے۔والدہ صاحبہ نے خود نبض دیکھ کر فرمایا۔ٹھیک تو نہیں چل رہی واپس آ گئی ہے۔لیکن ابھی کمزور ہے۔اتنے میں وہ سب عزیز جو کھانا کھانے کے لئے گئے ہوئے تھے، واپس آنے شروع ہو گئے اور چوہدری بشیر احمد صاحب اور شیخ اعجاز احمد صاحب بھی اطلاع ملنے پر تھوڑی دیر کے بعد کچہری سے آگئے۔والدہ صاحبہ نے فرمایا۔یہ وقت سب پر آتا ہے اور اولاد کو جب والدین سے