میری والدہ — Page 88
AA جدا ہونا پڑتا ہے تو انہیں کرب بھی ہوتا ہے۔لیکن میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہوں اور خوشی سے اس کے حضور جا رہی ہوں۔میں تم سب سے رخصت ہونا چاہتی ہوں۔لیکن چاہتی ہوں کہ تم لوگ کوئی شور خونمانہ کردو۔نہ اس وقت نہ میرے بعد۔پھر ہمشیرہ صاحبہ کے کان میں کچھ کہا اور انہوں نے والدہ صاحبہ کے کان میں کچھ کہا۔پھر باری باری سے والدہ صاحبہ نے بیٹوں سے پیار کیا اور دعادی اور پھر بہوؤں سے، اور ایسا ہی بشیر احمد اور اعجاز احمد سے اور ڈاکٹر صاحب سے اور امینہ بیگم سے اور احمدہ بیگم سے اور غلام نبی اور عزیز احمد اور چوہدری فضل داد صاحب سے رخصت ہوئیں۔پھر امتہ ائی کو بلوایا اور اسے پیار کیا پھر عبدالکریم کو بلوایا اور اسے دعا دی۔غرض جو کوئی بھی موجود تھا۔اس سے رخصت ہوئیں۔غلام نبی اس وقت غم سے بہت مضطرب ہوا جا رہا تھا اسے تسلی دی اور مجھے فرمایا دیکھو بیٹا اگر اس سے کوئی قصور سرزد ہو جائے تو اس وقت کو یاد کرنا اور اسے معاف کر دینا۔پھر شکراللہ خاں کی یوبی سے دریافت کیا۔کیا میری صندوقچی لے آئی ہو؟ اس نے کچھ حیران ہو کر پوچھا۔کونسی صند و چی ؟ والدہ صاحبہ نے جواب دیا۔وہی جس میں میرے کفن کی چادر میں رکھی ہیں۔زینب بی بی نے کہا۔ہم نے تو تار ملتے ہی دلی آنے کی تیاری شروع کر دی۔جلدی میں کچھ اور سوجھا ہی نہیں اور یہ بھی علم نہیں تھا کہ وہ صندونچی ڈسکہ میں ہے۔والدہ صاحبہ نے فرمایا میں نے تو کوئی تار نہیں دلوایا۔میں نے عرض کی تار میں نے دیئے تھے۔میرے دہلی پہنچنے سے قبل والدہ امتہ ائی سے فرما چکی تھیں کہ جب قادیان لے جاؤ گے تو مجھے بیت الظفر کی نچلی منزل میں ہی رکھنا۔اوپر کی منزل پر میرے اپنے کمرے میں نہ لے جانا اور مجھے فلاں مقام پر غسل دینا۔اب پھر مجھ سے بھی یہی فرمایا۔اس پر والدہ امتہ الئی نے عرض کی کہ جو جگہ آپ نے غسل کے لئے تجویز کی ہے وہ کافی نہیں اور وہاں پورا پر وہ بھی نہیں۔مسکرا کر فرمایا۔بہت کھلی ہے اور پردہ بھی