میری والدہ — Page 86
AY امتہ الحئی کی والدہ سے اور والدہ صاحبہ سے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر لطیف صاحب اور امینہ بیگم نے بھی بیٹے اور بیٹی کی طرح والدہ صاحبہ کی خدمت نہایت اخلاص اور تندہی سے کی ہے۔چنانچہ والدہ صاحبہ نے خود خاکسار سے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے زندگی بخشی تو میں بھی حسب توفیق ڈاکٹر صاحب کی خدمت کا حق ادا کرنے کی کوشش کروں گی۔ورنہ اصل اجر تو بہر حال اللہ تعالیٰ ہی دے گا۔اللہ تعالیٰ انہیں بھی اپنے فضل سے اجر وافر عطا فرمائے اور ان کے عزیزوں کو اور ہر اس شخص کو جس نے والدہ صاحبہ کی خدمت کی۔آمین دہلی پہنچنے پر والدہ صاحبہ نے مجھے بتایا کہ درمئی کی شام کو جب تم کا لکا سٹیشن سے مجھ سے رخصت ہو کر چلے گئے۔تو تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ عزیز احمد اور عبدالرحیم جن کو تمہارے پاس موجود رہنا چاہئے تھا پلیٹ فارم پر پھر رہے ہیں۔میں نے انہیں بلایا اور اللہ تعالٰی کا واسطہ دے کر کہا کہ ابھی بنگلے میں جاؤ اور جنس کمرہ میں میرا بیٹا سو رہا ہے۔اس کے آگے رات گزارو۔میں نے عرض کی کہ مجھے معلوم ہوا تھا کہ وہ رات یہ دونوں بنگلے کے دروازے کے سامنے برآمدہ میں سوئے ہیں۔۱۰ بجے کے قریب والدہ صاحبہ نے خاکسار سے فرمایا۔اب پھر خاکسار نے اسے استفہام تصور کر کے جلدی سے عرض کی۔اب پھر اللہ تعالیٰ کا فضل چاہئے۔ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ پرسوں کی نسبت آپ کی حالت بہت اچھی ہے۔انشاء اللہ آپ کو جلد صحت ہو جائے گی۔والدہ صاحبہ نے فرمایا۔اب پھر مجھے قادیان لے چلو۔میں نے عرض کی کہ وہاں علاج کا پورا انتظام نہیں ہو سکے گا۔والدہ صاحبہ نے بہت حسرت سے مسکرا کر کہا۔"اچھا“۔اس دن دو پہر کو والدہ صاحب کو امتلاء کی تکلیف نہ ہوئی اور یہ وقت جو تشویش کا ہوا کرتا تھا۔بخیریت گزر گیا۔جس سے کچھ امید ہونے لگی کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں شفا دے دیگا۔چنانچہ خاکسار نے تجویز کی کہ عزیزان شکر اللہ خاں اور اسد اللہ