میری والدہ — Page 85
۸۵ کی شکایت ہو گئی تھی۔جس سے دل پر کچھ بوجھ بڑھ گیا تھا۔لیکن یہ حالت ایک دو گھنٹوں کے بعد رفع ہوگئی۔۰ ارمئی منگل کے دن دو بار دہلی ٹیلیفون کیا۔وہی جواب ملا جو پہلے دن ملا تھا۔ارمئی بدھ کے دن صبح کو بھی وہی جواب ملا۔سہ پہر کو دہلی سے ٹیلیفون ہوا کہ دو پہر کے بعد دل کی حالت بگڑ گئی تھی۔مگر ٹیکے وغیرہ کرنے سے پھر سنبھل گئی۔اب نسبتا آرام ہے۔ہوش میں ہیں اور باتیں کر رہی ہیں۔لیکن حالت ایسی ہے کہ تمہیں فوراً دہلی پہنچ جانا چاہئے۔مجھے دوسرے دن شملہ میں ایک ایسا ضروری سرکاری کام تھا۔جسے چھوڑ کر میں نہیں جا سکتا تھا۔میں نے جواب میں کہا کہ میں کل یہاں سے روانہ ہو سکتا ہوں۔عزیز بشیر احمد نے اصرار کیا کہ آج ہی شملہ سے روانہ ہو جاؤ۔میں نے کہا میں آپ کے اصرار سے اندازہ کر سکتا ہوں کہ کیا حالت ہے۔لیکن مجبور ہوں۔کل سہ پہر روانہ ہو کر انشاء اللہ تعالیٰ جمعہ کی صبح کو دہی پہنچ جاؤں گا۔شام کو پھر ٹیلفون کیا معلوم ہوا کہ خالت پہلے سے بہتر ہے اور کوئی ایسی تشویش نہیں۔ڈاکٹر لطیف صاحب کے ساتھ سول سرجن صاحب بھی علاج میں شامل ہیں۔۱۲ مئی جمعرات کی صبح کو بھی ٹیلیفون کرنے پر ایسا ہی جواب ملا۔پھر بھی میں نے احتیاطاً اپنے تینوں بھائیوں کو تار دے دیئے کہ دہلی پہنچ جائیں اور ہمشیرہ صاحبہ کو بھی ساتھ لیتے آئیں۔عزیز اسد اللہ خان تو بدھ کی رات کو ہی لاہور سے روانہ ہو گیا تھا اور جمعرات کی صبح کو دہلی پہنچ گیا تھا۔باقی ہم سب جمعہ کی صبح کو دہلی پہنچ گئے۔ڈاکٹر لطیف صاحب نے بتایا کہ امتہ ائی کی والدہ نہایت جانفشانی کے ساتھ والدہ صاحبہ کی خدمت میں لگی رہی ہے اور اپنی صحت اور آرام کا کچھ خیال نہیں کیا اور پھر میں نے خود بھی مشاہدہ کر لیا کہ ہم سب بیٹوں، بہوؤں اور بیٹی سے وہ حق خدمت کا ادا نہ ہو سکا جو امتہ ائی کی والدہ نے ادا کیا۔اللہ تعالٰی اسے اجر وافر عطا فرمائے۔آمین