میری والدہ — Page 84
۸۴ دور ہو جائے گی۔چنانچہ اسی دن دہلی کے سفر کی تیاری کر لی گئی۔امتہ ائی کی والدہ نے اصرار کیا کہ میں ضرور والدہ صاحبہ کے ساتھ دہلی جاؤنگی۔میں نے بھی روکنے کی کوشش کی اور والدہ صاحبہ نے بھی منع کیا کہ بچی کو گرمی میں بہت تکلیف ہوگی اور ڈاکٹر لطیف کا گھر بھی میرا اپنا گھر ہے۔امینہ میری بیٹیوں کی طرح خدمت کرتی ہے۔پھر عزیز بشیر احد کے گھر کے لوگ بھی دہلی میں ہیں۔تم خوامخواہ بچی کو اور اپنے تئیں اس قدر گرمی میں تکلیف میں نہ ڈالو۔لیکن اس نے اصرار جاری رکھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ یہاں سے بیماری کی حالت میں روانہ ہوں اور میں آپ کی خدمت اور خبر گیری کے لئے ساتھ نہ جاؤں۔یہ اتوار کا دن تھا اور خاکسار کی حاضری دوسرے دن شملہ میں لازم تھی۔اس لئے یہ انتظام کیا گیا کہ میں ان سب کو کا لکا تک جا کر پہنچا آؤں اور ریل میں سوار کر دوں اور پھر آئندہ ہفتہ کے دن خود بھی دہلی والدہ صاحبہ کی خدمت میں حاضر ہو جاؤں۔چنانچہ ہم سب شام کے وقت کا لکا پہنچ گئے اور ان سب کو آرام سے ریل میں سوار کرا دیا گیا۔گاڑی کے چلنے کا وقت تو رات کے ۱۲ بجے تھا۔لیکن ساڑھے دس کے قریب میں نے والدہ صاحبہ سے رخصت چاہی کہ اب جا کر میں ریل کیے بنگلے میں سو جاؤں۔کیونکہ صبح سویرے پھر شملہ کا سفر کرتا ہے۔والدہ صاحبہ لیٹی ہوئی تھیں۔جب میں نے کمرہ کے اندر جا کر اجازت طلب کی تو اٹھ کھڑی ہوئیں اور میری پیشانی کو بوسہ دے کر دعا دی۔ڈاکٹر صاحب نے انہیں کھڑے ہوئے دیکھا تو شور مچا دیا۔ہے ہے جی ہے بے جی آپ کیا کر رہی ہیں فور الیٹ جائیں۔آپ کو تو لیٹے لیٹے بھی حرکت نہیں کرنی چاہئے۔والدہ صاحبہ نے بڑے اطمینان سے جواب دیا۔بیٹا لیٹے رہنے کے لئے تو بہت وقت ہے۔ظفر اللہ خاں کو اب پھر ملنا شاید ہو یا نہ ہو۔و مئی کی صبح کو میں ساڑھے آٹھ بجے واپس شملہ پہنچ گیا۔شام کو دہلی ٹیلیفون کیا تو معلوم ہوا کہ والدہ صاحبہ کی حالت پہلے سے بہتر ہے۔البتہ دو پہر کے وقت امتلاء