میری والدہ — Page 65
خدمت اقدس میں عرض کیا کہ اگر ممکن ہو۔تو اُن کے قریب قریب میری قبر کی جگہ مقرر فرما دیں۔حضور نے فرمایا کہ عام طور پر ایسا کرنا تو پسندیدہ نہیں۔لیکن استثنائی صورت میں ایسا ہو سکتا ہے۔چنانچہ حضور نے والد صاحب کی قبر کے دائیں طرف والدہ صاحبہ کے لئے جگہ مقرر فرما دی۔لیکن ایسا اتفاق ہوا کہ جب حضرت تائی صاحبہ فوت ہوئیں۔تو انہیں اس جگہ دفن کر دیا گیا۔والدہ صاحبہ نے جب حضرت صاحب کی خدمت میں اس امر کا ذکر کیا۔تو حضور نے فرمایا کہ مقبرہ بہشتی کے منتظمین کے سہو سے ایسا ہو گیا ہے۔اب ہم نے اور جگہ آپ کے لئے تجویز کر دی ہے۔یہ ہے تو اُسی قطعہ میں۔لیکن چوہدری صاحب کے پاؤں کی طرف ہے۔والدہ صاحبہ نے عرض کی۔حضور میں ہوں بھی اُن کی پاؤں کی جگہ کے ہی لائق لیکن اب ایسا انتظام فرمائیے کہ پھر میری جگہ کسی اور نہ مل جائے۔حضور نے فرمایا اب ہم نے مقبرہ بہشتی کے محکمہ کو ہدایت دے دی ہے کہ وہ اپنے رجسٹروں میں اس کا اندراج کر دیں اور اخبار میں اعلان بھی کرا دیا جائے گا۔خاندان حضرت مسیح موعود کے ساتھ محبت ۱۹۳۵ء میں جب ایک احراری نے صاحبزادہ میرزا شریف احمد صاحب پر حملہ کیا۔تو والدہ صاحبہ کو یہ واقعہ سن کر بہت قلق ہوا۔کھانا پینا موقوف ہو گیا۔نیند آ گئی اور آنسو بند ہونے میں نہیں آتے تھے۔چند دن کے بعد خاکسار سے فرمایا۔ظفر اللہ خاں میں بہت سوچتی ہوں کہ جب اس واقعہ کو سن کر میرا یہ حال ہے تو اماں جان ( حضرت ام المومنین ) کا کیا حال ہو گا پھر مجھے خیال آتا ہے کہ میں اس معاملہ میں کیا کر سکتی ہوں۔دو تین روز ہوئے ایک تجویز میرے ذہن میں آئی ہے۔اس کے بعد میں نے بہت دعائیں کی ہیں اور مجھے اطمینان ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس تجویز پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے گا۔