میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 21 of 102

میری والدہ — Page 21

۲۱ ۱۹۰۴ء کے دوران انہوں نے بعض رویا دیکھے۔جن کی بناء پر انہیں تمبر ۱۹۰۴ء کے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کا شرف حاصل ہوا۔اس سلسلہ میں پہلا رویا جو آپ نے دیکھا یہ تھا کہ بازار میں بہت رونق ہے اور لوگ خوشنما لباس پہن کر کہیں جارہے ہیں۔والدہ صاحبہ نے دریافت کیا۔تو معلوم ہوا کہ کسی نظارہ کو دیکھنے جارہے ہیں۔والدہ صاحبہ نے والد صاحب سے کہا کہ آپ بھی اپنی گاڑی تیار کرائیں۔تا ہم بھی جا کر یہ نظارہ دیکھیں۔چنانچہ والد صاحب نے گاڑی تیار کروائی اور یہ دونوں بھی گاڑی میں سوار ہو کر روانہ ہو گئے۔والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ جب ہم چوہدری محمد امین صاحب ( حال ایڈووکیٹ شیخو پورہ) کے مکان کے مقابل پر پہنچے۔تو انہوں نے تمہارے والد کو آواز دے کر بلا لیا اور تمہارے والد وہاں رک گئے اور میں اکیلی اُس میدان کی طرف چلی گئی۔جہاں لوگ جمع ہو رہے تھے۔وہاں جا کر میں نے دیکھا کہ خلقت کا بہت ہجوم ہے۔حتی کہ درختوں کی ٹہنیوں سے بھی لوگ لٹک رہے ہیں۔لیکن وسط میں جگہ خالی ہے اور ایک جھولا درمیان میں لٹک رہا ہے۔جس کی رسیاں آسمان میں جا کر غائب ہو جاتی ہیں۔اس جھولے پر ایک کپڑا پر دے کے طور پر لٹک رہا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس پردے کے نیچے کوئی انسان ہے۔لیکن وہ نظر نہیں آتا۔میدان کے ایک طرف ایک گیلری کے طور پر نشستیں بنی ہوئی تھیں۔جن پر میں نے دیکھا کہ ایک مقام پر دو آدمیوں کی جگہ خالی ہے۔میں وہاں جا کر بیٹھ گئی اور خالی حصہ کو بھی روک لیا۔۔جب کوئی شخص اس حصہ پر بیٹھنا چاہتا۔میں اسے یہ کہہ کر روک لیتی کہ یہ میرے ساتھی کی جگہ ہے۔میں اس انتظار میں تھی کہ تمہارے والد صاحب آجائیں اور خالی جگہ پر بیٹھ جا میں۔تھوڑی دیر کے بعد وہ جھولا شرقا غر باجھولنا شروع ہوا اور اُس سے ایک نور نکلنا شروع ہوا۔جوں جوں جھولا زور پکڑتا تھا۔یہ نور بھی بڑھتا جاتا تھا اور جس طرف کو یہ