میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 20 of 102

میری والدہ — Page 20

اس مقدمہ کی کماحقہ پیروی کرنے کی خاطر والد صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعاوی کا اور سلسلہ ے لٹریچر کا بالتفصیل مطالعہ کرنا پڑا اور عدالت میں جماعت احمدیہ کے عقائد حمایت کرنی پڑی۔جس کے نتیجہ میں ان کی طبیعت احمدیت سے بہت حد تک متاثر ہو چکی تھی۔غالباً ۱۹۰۴ء میں انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے مولوی کرم دین والے مقدمہ میں گورداسپور بطور گواہ صفائی بھی طلب کیا گیا تھا۔وہاں اول بار انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت اقدس میں شرف باریابی حاصل ہوا تھا اور وہ بہت خوشگوار اثر لے کر واپس آئے تھے۔مجھے یاد ہے کہ والد صاحب کے گورداسپور سے واپس آنے کے بعد کئی دن تک لوگ ہمارے ہاں آیا کرتے تھے اور والد صاحب سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے متعلق دریافت کیا کرتے تھے اور سہ پہر سے شام تک گفتگو میں زیادہ تر یہی تذکر ہ رہا کرتا تھا۔۳ ستمبر ۱۹۰۴ء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا لیکچر لاہور میلیا رام کے منڈوے میں تھا۔والد صاحب اس موقعہ پر لاہور تشریف لے گئے اور مجھے بھی ساتھ لے گئے۔میری عمر اس وقت : 11 سال کی تھی۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی زیارت اول باراتی موقعہ پر کی اور جیسے میں نے ایک مضمون میں جو الفضل میں چھپ چکا ہے، واضح کیا ہے۔میں بفضل تعالیٰ اُسی دن سے احمدی ہوں۔گو میں نے بیعت تین سال بعد کی۔احمدیت کے متعلق رویا اس دوران میں والدہ صاحبہ کو احمدیت یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے دعاوی کا کوئی تفصیلی علم نہیں تھا۔حتی کہ حضور کے نام سے بھی واقفیت نہیں تھی۔