میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 22 of 102

میری والدہ — Page 22

۲۲ جھولا جاتا۔اُس طرف کے لوگ جوش سے پکارتے تھے۔صدقے یا رسول اللہ آخر یہ جھولا اس زور سے جھولنے لگا کہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ زمین کے ایک کنارے سے لے کر دوسرے کنارے تک حرکت کرتا ہے۔دوسرار و یا والدہ صاحبہ نے یہ دیکھا کہ صبح چار بجے کے قریب مکہ معظمہ جانے کی تیاری کر رہی ہیں اور یوں محسوس کیا ہے کہ اس وقت سفر شروع کیا ہے اور سہ پہر کے چار بجے کے قریب دیکھا کہ یکہ جس میں سوار ہیں۔ایک بڑھ کے درخت کے قریب کھڑا کر دیا گیا ہے۔انہوں نے یکہ بان سے کہا کہ میں تو مکہ جانا چاہتی ہوں۔اس نے کہا یہی مکہ ہے جہاں آپ پہنچ گئی ہیں۔فرماتی تھیں میں حیران ہوئی کہ اس قدر جلد مکہ کیسے پہنچ گئی۔فجر کے وقت سفر شروع کیا تھا اور عصر کے وقت ختم ہو گیا۔اس حیرانی میں میں یکہ سے اتر کر ایک بازار سے گزر کر ایک گلی میں سے ہوتی ہوئی ایک مکان میں داخل ہوئی اور پہلی منزل پر چلی گئی۔وہاں دیکھا کہ محن میں ایک تخت پوش بچھا ہوا ہے اور اُس پر ایک تعلیم کتاب رجسٹر کی طرز کی رکھی ہوئی ہے اور ساتھ ایک بکس ہے جس کے اوپر کے ڈھکنے میں ایک سوراخ ہے۔میں نے اُس سوراخ کے دونوں طرف ہاتھ رکھ کر اور اپنا منہ اس سُوراخ کے قریب کر کے تین بار بلند آواز سے کہا۔یا اللہ میرے گناہ بخش “ اور پھر خود ہی دریافت کیا۔” بخشو گے؟ تو بلند آواز سے جواب ملا : میں صاحب بخشش ہوں بخشوں گا اگر تمہارا نام اس رجسٹر میں درج ہو اتو “ میں نے خواب میں خیال کیا کہ شاید یہ رجسٹر پیدائش اور اموات کے اندراجات کا ہے اور فکر کرنے لگی کہ معلوم نہیں چوکیدار نے میری پیدائش کے وقت میرا نام درج کرایا تھا یا نہیں۔پھر میری نیند کھل گئی۔یہ رویا دیکھنے کے تھوڑا عرصہ بعد والدہ صاحبہ دا تازید کا تشریف لے گئیں اور