میری والدہ — Page 83
۸۳ رستہ تلاش کر رہی ہوں لیکن رستہ نہیں ملتا۔اسی دوران میں میں ایک خیمہ کے اندر چلی گئی ہوں کہ شاید یہاں سے رستہ باہر نکلنے کا مل جائے۔لیکن اس خیمہ میں بھی بہت اندھیرا ہے اور نیچے کیچڑ ہے۔جس میں میں پھنس گئی ہوں اور نکلنے کی کوشش کرتی ہوں لیکن نکل نہیں سکتی۔اس وقت میں نے کہا اگر کسی طور سے ظفر اللہ خاں کو اطلاع ہو جائے تو وہ مجھے یہاں سے نکلوانے کا انتظام کر لے گا۔سے رمئی ہفتہ کے دن ان کی حالت پہلی شام کی حالت سے تو بہتر تھی لیکن کمزوری بہت محسوس کرتی تھیں۔دوران گفتگو میں انہوں نے کہا۔اگر ڈاکٹر لطیف یہاں ہوتے تو مجھے جلد صحت ہو جاتی۔میں نے فورا ڈاکٹر لطیف صاحب کو دہلی تار دیدیا کہ والدہ صاحبہ آپ کو یاد فرماتی ہیں۔وہ دوسرے دن صبح شملہ پہنچ گئے۔والدہ صاحبہ انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوئیں۔پلنگ پر اٹھ کر بیٹھ گئیں۔ڈاکٹر صاحب کو پیار کیا اور مسکرا کر کہا۔اب کے اچھی ہو جاؤں تو سمجھوں بڑے ڈاکٹر ہو۔ڈاکٹر صاحب نے کہا اللہ تعالیٰ فضل کرے گا۔دیکھئے میں آپ کا تار ملتے ہی آ گیا ہوں۔والدہ صاحبہ نے کہا۔میں نے تو تار نہیں بھجوایا اور میری طرف دیکھا۔میں نے عرض کی کہ کل آپ نے ڈاکٹر صاحب کو یاد کیا تھا۔اس لئے میں نے تار دے دیا تھا۔شملہ سے دہلی کو روانگی ڈاکٹر صاحب نے معائنہ کرنے کے بعد فرمایا کہ ان کے لئے شملہ میں ٹھہرنا نہایت مضر ہے۔یہاں بلندی کی وجہ سے دل پر بہت بوجھ ہے۔انہیں آج ہی میں اپنے ساتھ دہلی لے جاؤں گا اور اپنے مکان پر ہی رکھوں گا۔کیونکہ تین چار روز تک متواتر علاج کی ضرورت ہے اور میرا ہر وقت قریب رہنا ضروری ہے۔تاکہ دل کی حالت اور اور خون کے دباؤ کے مطابق علاج میں تبدیلی ہوتی پر ہے۔ساتھ ہی والدہ صاحب کو تسلی دی کہ تین چار روز کے علاج کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام تکلیف