میری والدہ — Page 82
۸۲ سے پہلے پہلے سفر طے کر لیا جائے۔والد صاحب نے فرمایا بہتر ہوگا کہ بجے کے بعد روانہ ہوں جب بچے ناشتہ سے فارغ ہو جائیں ورنہ بچوں کو تکلیف ہوگی۔والدہ صاحبہ نے دوسرے دن خواب بیان کرتے ہوئے پالکی کی زیبائش کی تفاصیل بھی بیان کیں کہ ایسی خوبصورت تھی اور اس قسم کی لکڑی تھی اور فلاں حصے چاندی کے تھے۔پانچ دن تو اسی صورت میں گزر گئے کہ گو کمزوری تھی۔لیکن کسی قسم کی تشویش نہیں تھی۔تہجد کے لئے اور باقی نمازوں کے لئے خود ہی اٹھ کر غسل خانہ میں وضو کے لئے تشریف لے جاتی تھیں اور جائے نماز پر نمازیں پڑھتی تھیں۔اکثر وقت پلنگ پر بیٹھے ہوئے گزارتی تھیں۔چوتھے روز گوڈاکٹر صاحب نے پلنگ سے اترنا منع کر دیا تھا۔لیکن پھر بھی 4 رمئی جمعہ کے دن عصر کے وقت جب میں ان کے پاس گیا۔تو میں نے دیکھا کہ برآمدہ میں جائے نماز پر نماز پڑھ رہی ہیں۔جب نماز ختم کر چلیں۔تو میں نے عرض کی کہ ڈاکٹر صاحب نے تو پلنگ سے ملنے کی اجازت نہیں دی۔آپ اس حالت میں ہیں۔فرمایا نماز پڑھنے میں کوئی تکلیف نہیں۔پھر میں نے کہا چلنے میں آپ کو پلنگ تک پہنچا آؤں اور میں سہارا دے کر پلنگ تک لے گیا۔انہوں نے اظہار شفقت کے طور پر سہارا لے لیا۔لیکن اس وقت تک ابھی انہیں سہارے کی ضرورت نہ تھی۔مغرب کے بعد میں دفتر کے کمرہ میں بیٹھا ہو ا کام کر رہا تھا کہ مجھے اطلاع ملی کہ والدہ صاحبہ پر ایک قسم کی بے ہوشی کی حالت طاری ہو گئی ہے۔میں فورا ان کے کمرہ میں گیا۔اس وقت ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ضعف کی وجہ سے کچھ نیم بے ہوش ہی ہو رہی ہیں۔لیکن آہستہ آہستہ پاؤں دبانے سے پورا ہوش آ گیا اور باتیں وغیرہ کرنی شروع کر دیں۔مجھ سے فرمایا کہ مغرب سے پیشتر جب تم مجھے یہاں چھوڑ گئے تھے۔مجھے غنودگی ہوگئی اور میں نے محسوس کیا کہ میں کسی اندھیری جگہ میں ہوں اور وہاں سے نکلنے کا