میری والدہ — Page 58
۵۸ ہوا۔وہ تو مجھے جیسی بُڑھیا کے سامنے سہم گیا تھا۔خود ہی تجویز کرتی رہیں کیہ مکان کے اندر آنے والے کے لئے تو تین چار ماہ کی قید کافی سزا ہے اور جو دو ساتھی اس کے باہر سے پکڑے گئے وہ رہا ہو جانے چاہئیں۔مجسٹریٹ نے ان سب کو ایک ایک سال کی قید کی سزا دیدی۔اب والدہ صاحبہ کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ کس طرح ان لوگوں کی سزا میں تخفیف ہو۔اس اثناء میں خاکسار انگلستان سے واپس آ گیا۔مجھے سارا ماجرا والدہ صاحبہ نے سُنایا اور فرمایا کہ تم کوشش کرو کہ ان لوگوں کی سزا میں تخفیف ہو جائے۔میں نے عرض کی کہ یہ تو میرے اختیار کی بات نہیں۔ان کی اپیل عدالت سیشن میں دائر ہے۔یہ ہو سکتا ہے کہ اگر وہ لوگ مجھ پر اعتماد کریں۔تو میں اُن کی طرف سے بلا فیس اُن کی اپیل کی پیروی کردن ممکن ہے کہ حج یہ خیال کرلے کہ جب اس کے گھر میں یہ چوری کی نیت سے داخل ہوئے تھے اور یہی اُن کی طرف سے وکالت کرتا ہے۔تو اُن کی سزا میں کم سے کم تخفیف کر دینی چاہئے۔لیکن ساتھ ہی یہ قباحت بھی ہوگی کہ مجھے عزیز اسد اللہ خاں اور اپنے ملازموں کی شہادت پر تنقید کرنی پڑیگی اور ممکن ہے کہ حج یہ خیال بھی کرے کہ عجب آدمی ہے۔روپے کی طمع میں یہ کاروائی کر رہا ہے۔اُسے یہ تو معلوم نہیں ہوگا کہ میں کس وجہ سے ان لوگوں کی وکالت کر رہا ہوں۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ یہ طریق ٹھیک نہیں کوئی اور طریق تجویز کرو۔میں نے عرض کی کہ اگر اُن کی اپیل نا منظور ہوگئی اور ہائی کورٹ سے بھی اُن کی سزا میں تخفیف نہ ہوئی۔تو پھر یہ ہوسکتا ہے کہ میں گورنر صاحب کی خدمت میں عرض کروں کہ ان کی سزا میں تخفیف کر دیں۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ وہاں بھی تمہیں یہ بتانا پڑیگا کہ میری خواہش کے مطابق تم اُن سے کہہ رہے ہو۔میں نے کہا یہ تو کہنا ہی پڑے گا۔فرمانے لگیں۔یہ طریق بھی مناسب معلوم نہیں ہوتا۔اچھا اگر کوئی اور صورت نہیں تو میں اُن لوگوں کے لئے دعا کروں گی کہ اللہ تعالی ان پر رحم کرے۔