میری والدہ — Page 57
۵۷ کہ موقعہ پا کر رات کے وقت وہ چوری کے لئے ہمارے مکان میں داخل ہوں۔لیکن اس خیال کے ساتھ ہی میرے دل نے مجھے ملامت کی کہ میں نے ان غریب کاریگروں پر خواہ مخواہ بدظنی کیوں کی۔چنانچہ میں نے اُسی وقت استغفار کیا اور اللہ تعالیٰ سے اس لغزش کی معافی چاہی۔اُسی رات میں زنانہ بر آمدہ میں سورہی تھی کہ میں نے محسوس کیا کہ کوئی شخص آ کر میرے پلنگ کے کنارے پر بیٹھ گیا ہے۔اس شخص نے مسہری اٹھا کر میرے بازو کو ہاتھ ڈالنا چاہا۔گویا میرے لن کو پکڑنا چاہتا تھا میں اٹھ کر بیٹھ گی اور دریافت کیا کہ تم کون ہو اور ساتھ ہی آواز دی کہ کوئی شخص اُٹھ کر بجلی روشن کر دے۔میری آواز سُن کر یہ شخص گھبرا گیا اور پانگ سے اٹھ کھڑا ہو ا۔روشنی ہونے پر وہ مجن میں چلا گیا۔میں بھی اٹھ کر اس کے پیچھے پیچھے چل پڑی اور بظا ہر کتی سے اُسے سرزنش کرنی شروع کی کہ تم کون ہو اور تمہارا مکان کے اندر زنانے حصہ میں آنے کا کیا حق ہے۔وہ کچھ مبہوت سا ہو کر پیچھے ہٹتا چلا گیا اور میں آگے بڑھتی گئی اور ساتھ ساتھ بلند آواز سے ملازموں کو بھی بلانے کی کوشش کرتی جاتی تھی۔گو میر اول خوف کے مارے دھڑک رہا تھا اور میں جانتی تھی کہ یہ شخص ایک تھیٹر یا ضرب سے میرا خاتمہ کر سکتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے ہمت عطا کی اور میں صحن کے آخری حصہ تک اُس کے پیچھے پیچھے چلی گئی۔اتنے میں میری آواز سن کر مردانہ حصہ سے عزیز اسد اللہ خاں اور ملازم آگئے اور اُنہوں نے اس شخص کو گر فتار کر لیا اور اس کے دو ساتھیوں کو بھی جو باہر باغ میں اس کا انتظار کر رہے تھے۔تعاقب کر کے تھوڑی دُور جا کر پکڑ لیا۔یہی وہ معمار اور مزدور تھے۔جنہیں ظہر یا عصر کے وقت میں نے آپس میں اشارے کرتے دیکھا تھا۔جب ان لوگوں کا چالان ہوا۔تو والدہ صاحبہ کی طبیعت میں رحم کا جذبہ غالب ہونے لگا۔بار بار کہتیں کہ میں چاہتی ہوں کہ ان غریبوں پر کتی نہ ہو۔مزدور لوگ ہیں معلوم نہیں کس انگیخت میں آ کر انہوں نے یہ فعل کیا۔جو شخص مکان کے اندر داخل