میری والدہ — Page 30
ماتحت خاکسار کو بھی معمول سے بڑھ کر ان سے محبت ہوتی گئی۔یوں تو اُن کا دل محبت اور شفقت کا ایک جاری چشمہ تھا۔جو اپنے اور پرائے کا امتیاز نہ جانتا تھا اور اپنے تمام متعلقین اور خصوصیت سے اپنی تمام اولاد کے ساتھ تو انہیں محبت کا گہرا تعلق تھا۔لیکن خاکسار کے اور والدہ صاحبہ کے درمیان جو رشتہ تھا۔اُس کی کیفیات کو ہمارے دو دل ہی جانتے تھے۔والدہ صاحبہ کو ہر عزیز سے جدائی بہت شاق گزرتی تھی۔لیکن خاکسار سے جدائی کا برداشت کرنا انہیں بہت دشوار ہو جایا کرتا تھا۔۱۹۹۷ء میں جب خاکسار انٹرنس کا امتحان پاس کر کے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوا اور پہلی دفعہ لمبے عرصہ کے لئے گھر سے باہر رہنا پڑا تو والدہ صاحبہ نے اصرار کیا کہ میں ہر ہفتہ ان کی خدمت میں حاضر ہو ا کروں۔لیکن چونکہ ہر ہفتہ لاہور سے سیالکوٹ جانا مشکل تھا۔اس لئے خاکسار اوسطاً ہر دوسرے ہفتہ اُن کی خدمت میں حاضر ہو جایا کرتا تھا۔ہر دفعہ واپس جاتے وقت تا کید فرمایا کرتی تھیں کہ لاہور پہنچتے ہی اپنے بخیریت پہنچ جانے کی اطلاع دیتا۔خاکسار پر انہیں حسن ظن بھی تھا۔1910ء کی گرمیوں کی تعطیلات میں خاکسار بی۔اے کے امتحان کی تیاری کے لئے ایبٹ آباد چلا گیا۔تعطیلات کے آخری حصہ میں رمضان کا مہینہ آ گیا۔جب خاکسار تعطیلات کے آخر میں سیالکوٹ واپس پہنچا۔تو والدہ صاحبہ نے خاکسار سے کہا کہ تمہارے والد تو قیاس کرتے تھے کہ تم نے روزے نہیں رکھے ہونگے۔لیکن میں باصرار کہتی رہی کہ میرے بیٹے نے ضرور روزے رکھے ہو نگے۔اب بتاؤ ہم دونوں میں سے کس کا قیاس درست تھا ؟ میں نے عرض کی کہ آپ کا قیاس درست تھا۔میں نے اللہ تعالی کے فضل سے تمام روزے رکھے ہیں یہ بلکہ آج بھی باوجود سفر کے میرا روزہ ہے۔(اس وقت خاکسار کی عمرے اسال کی تھی۔ابھی خاکسار پر یہ واضح نہیں تھا کہ سفر کے دن رمضان